بازار گئی تو بٹوہ گر گیا۔۔ سابق کپتان ثناء میر کے بٹوے ،کیا کچھ تھا اور اسے لوٹانے والے یہ 2 نوجوان کون ہیں؟

لاہور (قدرت روزنامہ)”میں بازار میں کچھ خریداری کر رہی تھی کہ میرا والٹ کہیں گر گیا۔ جب واپس ڈھونڈنے گئی تو نہ ملا۔ ہم سی سی ٹی وی دیکھنے ہی والے تھے کہ ایک انجان نمبر سے کال آئی۔ اس شخص نے تصدیق کی کہ میرا سامان کھو گیا ہے اور مجھے ایک جگہ بلایا۔ وہاں جا کر دیکھا تو وہ شخص سخت دھوپ میں میرا انتظار کر رہا تھا تاکہ میرا والٹ واپس کر سکے۔ اس کے اندر ایک لفافہ موجود تھا جس پر میرا نمبر اور کچھ تصاویر تھیں۔ میں ان دونوں افراد کی شکر گزار ہوں جنہوں نے ایمانداری سے میرا سامان لوٹایا۔ سب کو چاہیے کہ اپنے والٹ میں رابطے کی تفصیلات ضرور رکھیں تاکہ کھو جانے کی صورت میں واپس مل سکے۔”
پاکستانی ویمنز کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثناء میر کا گم ہونے والا والٹ غیر متوقع طور پر واپس مل گیا۔ خریداری کے دوران وہ کہیں گر گیا تھا، مگر ایک اجنبی کی کال نے ان کی مشکل آسان کر دی۔ وہ شخص دھوپ میں کھڑا صرف اس لیے انتظار کر رہا تھا تاکہ والٹ درست حالت میں ان کے حوالے کر سکے۔ثنا میر نے ایکس پر دو نوجوانوں جلال الدین خان اور عباس خان کے نام کے علاوہ ان کی تصاویر بھی شیئر کیں جبکہ کمنٹ سیکشن میں ایک صارف کے مطابق ان دونوں نوجوانوں کا تعلق پارہ چنار سے ہے/
A huge shoutout to two amazing people Jalal ud Khan
and Abbas khan, who restored my faith in humanity yesterday afternoon.I was walking between two eateries to grab some dessert and accidentally dropped my wallet on the road. I realized it was gone only when I reached the… pic.twitter.com/6D8ZTSiKiO
— Sana Mir ثناء میر (@mir_sana05) August 26, 2025
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی امانت کو امانت سمجھتے ہیں۔ ثناء میر نے اس رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ والٹ میں اپنا نمبر یا دیگر معلومات رکھنی چاہئیں تاکہ کھو جانے پر آسانی سے مالکان تک پہنچایا جا سکے۔
