2 بھائیوں کا قتل ، 30 روپے کا جھگڑا یا قتل کی منظم سازش؟ صحافی امجد بخاری نے سوال اٹھا دیا

لاہور(قدرت روزنامہ)رائیونڈ میں تیس روپے کا جھگڑا دو بھائیوں کی جان لے گیا ، پولیس مقابلے میں دو مبینہ قاتل بھی مارے گئے ہیں ، تاہم قصور کے علاقے رتی پنڈی کے رہائشی نوجوانوں کے قتل کا انوکھا دعویٰ سامنے آْگیا ہے ۔
صحافی امجد بخاری نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ مقتول نوجوانوں واجد اور راشد گاوں میں ایک برف کا کارخانہ اور دودھ کی دکان چلاتے ہیں ۔ جب کہ ان کی اپنے ہی گاوں میں خاندانی دشمنی بھی چل رہی ہے ۔ مقتولین کے گھر کے دروازوں پر آج بھی گولیوں کے نشانات ہیں ۔
صحافی کے مطابق معاملہ اتنا سیدھا اور وائرل ویڈیو کی حد تک محدود نہیں ہے کیونکہ اس علاقے میں ریڑھی والے رائیونڈ قصور روڈ پر بمبھ کے علاقے میں ریڑھی کے مالک اویس کا کردار مشکوک ہے اور یہ چار بھائی دو بہنوئی ڈکیٹ گینگ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ایک بھائی ریڑھی پر پھل فروشی کیساتھ ساتھ وہاں آنے والے موٹرسائیکل سواروں اورکار سواروں کی ریکی کرکے گینگ کے دیگر افراد کو اطلاع دیتا تھا۔
امجد بخاری کے مطابق واجد اور راشد لاہورسے واپسی پر ریڑھی سے کیلے خریدتے ہیں، انکی جیب میں سوا لاکھ کے قریب رقم موجود ہوتی ہے، جب وہ جیب سے پیسے نکالتے ہیں تو ریڑھی پر موجود شخص کی نیت خراب ہوجاتی ہے، وہ واجد اور راشد سے جھگڑا شروع کر دیتا ہے تاکہ جھگڑے کی آڑ میں پیسے ہتھیا لئے جائیں۔ لیکن اسی دوران اس کا دوست وکٹوں اور بلے سمیت آجاتا ہے۔
صحافی امجد بخاری نے مزید دعویٰ کیا کہ علاقے میں موجود صحافی دوستوں اور مقامی افراد سے رابطہ کیا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ جس جگہ یہ واقعہ رونما ہوا، اس کے اردگرد کوئی بھی کرکٹ گراونڈ یا سڑک موجود نہیں ہے تو وکٹیں اور بلا کیسے آیا؟ بلے کے وار سے قتل کرنے والے فرد کے حوالے سے یہ بھی دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ مقتول واجد اور راشد کے مخالفین کا دوست ہے ، تاہم قتل کے بعد انکی مخالف پارٹی مقتول کے گھر گئی، انہیں یقین دلایا کہ اس قتل میں انکا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے ہر قسم کے تعاون کی بھی آفر کروائی گئی۔ اب اس قتل کے دو ملزم مقابلے میں پار ہوچکے ہیں، دو مفرور ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا چار افراد ہی قاتل ہیں؟ دوسری جانب مقتولین کے ورثا نے پولیس اور انتظامیہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
