شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن اجلاس کی غیر معمولی اہمیت، ڈالر کا متبادل لانا کیا آسان عمل ہے؟


تیانجن(قدرت روزنامہ)بین الاقوامی تناظر میں چین اپنی بہت بڑی معیشت کے ساتھ گلوبل ساؤتھ یا عالمی جنوب کی سربراہی کرتا دِکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ روز چین کے شہر تیانجن میں اختتام پذیر ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اِجلاس بین الاقوامی طور پر مرکزِ نگاہ رہا اور دنیا بھر کے اہم نشریاتی اداروں میں اجلاس کو خصوصی کوریج دی گئی۔


امریکا کی جانب سے دنیا کے مختلف ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے بعد سے دیگر بین الاقوامی اتحاد اور تنظیمیں فروغ پا رہی ہیں اور متبادل تجارتی نظام لانے کی بات چیت ہو رہی ہے۔ 6 اور 7 جولائی کو برازیل میں ہونے والے برِکس تنظیم کے اجلاس میں بھی یہ بات کی گئی اور اب چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں روس نے تنظیم کے 10 رُکن ممالک کے درمیان مشترکہ بانڈز جاری کرنے کی تجویز دے دی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یہ تجویز دی کہ ایس سی او کے 10 رکن ممالک مشترکہ بانڈز جاری کریں، جو ان کے معاشی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا ایک اہم قدم ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ ایک مشترکہ ادائیگیوں کا نظام قائم کیا جائے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے لین دین کو سہولت دی جا سکے۔

اس کے علاوہ پیوٹن نے مشترکہ سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے ایک بینک قائم کرنے کی حمایت کی، جس کا مقصد معاشی تبادلے کو زیادہ مؤثر بنانا اور بیرونی معاشی اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
تیانجن میں ہونے والے اِجلاس کی غیر معمولی اہمیت
شنگھائی تعاون تنظیم کے تیانجن میں ہونے والے اجلاس کو اس بار غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی، جس کی کچھ اہم وجوہات ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات
صدر شی جن پنگ سے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملاقات کی۔
اس اجلاس میں چین اور بھارت کے درمیان گزشتہ 5 سال سے چلی آ رہی مخاصمت میں کمی دیکھنے میں آئی۔


سربراہی اِجلاس میں پہلگام واقعے اور جعفر ایکسپریس سمیت دہشتگردی کی تمام شکلوں کی مذمت کی گئی۔
اجلاس میں بھارت نے پاکستان کا ساتھ دینے کی بنا پر آذربائیجان کی مکمل رُکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈال دی۔
اجلاس میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تعاون بڑھانے کے لیے بھی اتفاق کیا گیا۔
تیانجن اجلاس کئی وجوہات کی بنا پر بہت اہم تھا: ملک ایوب سنبل
بیجنگ میں چینی میڈیا سے وابستہ پاکستانی جیو پولیٹیکل تجزیہ نگار ملک ایوب سنبل نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ تیانجن میں ہونے والا شنگھائی تعاون تنظیم کا اِجلاس بہت اہم تھا، اس اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ ممالک سمیت دنیا بھر کی توجہ گلوبل ساؤتھ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ابتدائی طور پر جب یہ تنظیم بنی تو اِس کا مینڈیٹ سیکیورٹی تھا لیکن اب اس کا مینڈیٹ سیکیورٹی سے کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ اب یہ مینڈیٹ تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تبادلوں تک بڑھ گیا ہے۔ جب سے یہ تنظیم بنی ہے پانچویں بار اِس کی صدارت چین کے پاس آئی ہے جو ایک موقع ہے کہ چین اب نئی ایجادات کی بنیاد پر ترقی کی بنیاد رکھے۔

ملک ایوب نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک ملٹی لیٹرل فورم ہے۔ اس تنظیم میں چین اور دیگر رکن ممالک کے درمیان تجارتی حجم 512 ارب ڈالر ہے جو سالانہ 3 فیصد کے حساب سے بڑھ رہا ہے جس سے چین کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور اثر و رسوخ کے بارے میں پتا چلتا ہے۔
اُنہوں نے کہاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رُکن ممالک کے پاس عالمی قدرتی گیس کے ذخائر کے 20 سے 25 فیصد ذخائر موجود ہیں جس کی وجہ سے ایس سی او ریجن عالمی طور پر سرمایہ کاری اور شراکت داری کے لیے بڑا انتخاب بنتا جا رہا ہے۔
’اس کے علاوہ یہ کہ ایس سی اور ریجن میں دنیا کی 42 فیصد آبادی رہتی ہے۔ چین کے فعال کردار سے اِس خطے میں ماحول دوست توانائی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، رابطہ کاری کے میدانوں میں ترقی ہو سکتی ہے۔‘
ملک ایوب نے کہاکہ تیانجن سربراہی اجلاس کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایس سی او کے پیمانے اور اس کی صلاحیت کو دیکھنا ہوگا۔ یہ تنظیم عالمی آبادی کا 42 فیصد اور یوریشیا کی آبادی کا 65 فیصد نمائندگی کرتی ہے۔ معاشی طور پر یہ عالمی جی ڈی پی میں قریباً 23 فیصد حصہ ڈالتی ہے، جو اسے عالمی معیشت میں ایک اہم کھلاڑی بناتی ہے۔
’ایس سی او اب جغرافیائی سیاسی مصروفیات کے لیے ایک مرکز بن رہی ہے‘


ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس میں شرکت کی سطح بے مثال تھی۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ، اور دیگر عالمی جنوب کے ممالک سے رہنماؤں اور نمائندوں کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایس سی او اب نئی شراکت داریوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور جغرافیائی سیاسی مصروفیات کے لیے ایک مرکز بن رہی ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تنظیم عالمی استحکام اور ترقی کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم کے طور پر ابھر رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert