شدید بارش کے باعث گجرات میں ناگہانی صورتحال کا سامنا ہے، ڈی جی پی ڈی ایم اے
تمام اداروں کی مشینری اس وقت گجرات میں پانی کی نکاسی کے لئے کام کر رہی ہے،عرفان علی کاٹھیا

لاہور (قدرت روزنامہ)ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ شدید بارش کے باعث ضلع گجرات پچھلے 24 گھنٹے سے ناگہانی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، تمام اداروں کی مشینری اس وقت گجرات میں پانی کی نکاسی کے لئے کام کر رہی ہے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 9 ستمبر تک صوبے میں دسواں مون سون اسپیل جاری ہے جس کے تحت بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جلالپور پیر والہ میں ایک کشتی ڈوبنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، 70 سال کی ایک خاتون اور 4 بچے اس میں جاں بحق ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کی کشتیوں نے پنجاب بھر میں ابھی تک 25 ہزار 1 سو 46 ٹرپ مکمل کیے ہیں، کل 10 لوگوں کو موقع پر ریسیکو کیا گیا۔
وزیر اعلی پنجاب نے اس واقعے کا نوٹس لیا، ضلعی انتظامیہ نے وزیر اعلی کی ہدایت پر ان کی تدفین کا بندوست کیا، اگلے 24 گھنٹوں میں متاثرہ فیملی کی مالی امداد کی جائے گی۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ گجرات پچھلے 24 گھنٹے سے ناگہانی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، تمام اداروں کی مشینری اس وقت گجرات میں پانی کی نکاسی کے لئے کام کر رہی ہے، گجرات میں ریلوے روڈ، شاہ جہانگیر، دیگر روڈ پوری طرح کلئیر ہونے کے بعد ٹریفک کے لئے کھول دیے گئے، جناح چوک، کچہری روڈ پر پانی موجود ہے، اگلے 22 گھنٹے میں یہ روڈز مکمل کلئیر ہوں گے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ تینوں دریاؤں میں پانی بڑھنے کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، ستلج میں اب رائزنگ ٹرینڈ نہیں ہے، گنڈا سنگھ پر صورتحال برقرار ہے، ہیڈ سدھنائی پر 91 ہزار کیوسک موجود ہے، دوسرا ریلہ ہیڈ مرالہ سے ہوتا ہوا اب تریموں پر اپنی پیک پر پہنچ چکا ہے، 5 لاکھ 83ہزار کیوسک پانی کا ریلہ ہیڈ تریموں کے مقام پر ہے، اگلے بارہ سے 18 گھنٹے میں یہ پانی پونے 6 لاکھ کیوسک سے تجاوز کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ہیڈ محمد والا پر پانی کم ہو رہا ہے، ملتان میں کم از کم اگلے 72 گھنٹے یہی صورتحال برقرار رہے گی، پیچھے سے آنیولا پانی مسائل پیدا کرے گا، ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کا لیول مسلسل بڑھ رہا ہے، علی پور کے مقام 5 لاکھ سے تجاوز کر چکا ہے، ہیڈ پنجند پر پانی کا لیول 6 لاکھ کیوسک کراس کرے گا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت تک 25 اضلاع متاثر ہوئے جن میں 41 لاکھ 51 ہزار سے زائد نفوس کی آبادی متاثر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریلیف کیمپس میں 60 سے 70 ہزار لوگ موجود ہیں، جنھیں کھانے کے ساتھ بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، 500 میڈیکل کیمپس میں پونے 2 لاکھ افراد طبی سہولیات لے چکے ہیں، اب تک 20 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، پنجاب میں اب تک ٹوٹل 56 افراد سیلابی صورتحال کے باعث جاں بحق ہوئے ہیں۔
