موبائل ڈیٹا فروخت کیےجانے کا معاملہ؛ سائبر کرائم ایجنسی متحرک ہوگئی، تفتیش کے دوران نئے انکشافات
ڈیٹا 2023 سے پہلے چوری ہوا یا بعد میں اس کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)انٹرنیٹ پر شہریوں کا ڈیٹا فروخت کیے جانے سے متعلق ایکسپریس نیوز کی نشر کی گئی خبر پر وفاقی وزیر داخلہ کے نوٹس کے بعد سائبر کرائم ایجنسی متحرک ہوگئی جب کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی خصوصی ٹیم کی تفتیش کے دوران نئے انکشافات بھی سامنے آگئے۔
رپورٹ کے مطابق ذرائع نے کہا کہ ڈیٹا بیچنے کے دھندے میں ویب سائٹس کے علاوہ متعدد موبائل ایپلیکیشنز کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے، این سی سی آئی اے کی ٹیم نے ویب سائٹس کے ساتھ ساتھ ایپلیکیشنز کا تجزیہ بھی شروع کردیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ڈیٹا 2023 سے پہلے چوری ہوا یا بعد میں اس کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، جو عناصر ویب سائٹس اور موبائل ایپس پر ڈیٹا بیچ رہے تھے، ان کی گرفتاری کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈیٹا بیچنے والی ویب سائٹس اور ایپس کی نشاندہی کرلی گئی، مذکورہ ویب سائٹس اور ایپس کو پاکستان میں مکمل بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈیٹا بیچنے میں ملوث افراد کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
