تربت سے لاپتا عبداللطیف کو بازیاب نہ کیا گیا تو شاہراہیں بند کردیں گے، لواحقین کی پریس کانفرنس


تربت(قدرت روزنامہ)تربت کے مین بازار سے لاپتہ ہونے والے دکاندار عبداللطیف ولد عبدالرحمن کے لواحقین نے تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ لواحقین کے مطابق عبداللطیف جس کی عمر تقریباً چالیس سال ہے، 13 ستمبر 2025 کو دوپہر تین بجے نیشنل بینک کے قریب واقع اپنی دکان سے نامعلوم افراد کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں لواحقین نے بتایا کہ عبداللطیف میری کلگ کا رہائشی اور ایک دکاندار ہے۔ اگر اس نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ قانونی تقاضے پورے ہوں، بصورت دیگر ان کی جبری گمشدگی ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین دن گزرنے کے باوجود کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی، جس سے اہل خانہ شدید اذیت اور کرب میں مبتلا ہیں۔ عبداللطیف کی بہن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کے بھائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں، طویل حراست یا لاپتہ رہنے کی صورت میں ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ لواحقین نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ صرف دلاسے دے رہی ہے جبکہ کوئی عملی اقدام نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تین دن کے اندر عبداللطیف کو بازیاب کیا جائے بصورتِ دیگر وہ پہیہ جام ہڑتال کریں گے اور اہم شاہراہوں کو بند کر کے شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ لواحقین نے کہا کہ وہ پرامن شہری ہیں لیکن اپنے بھائی کی عدم بازیابی پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ اہل خانہ نے اعلیٰ حکام اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عبداللطیف کی زندگی داﺅ پر لگی ہے اور اس کی بازیابی میں مزید تاخیر ناقابل برداشت ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert