ٹرمپ کا دباؤ یا مارکیٹ کی حکمت عملی؟ وارن بفٹ نے چینی کمپنی بی وائی ڈی کے شیئرز فروخت کردیے


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)دنیا کے 10 امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل امریکی بزنس ٹائیکون وارن بفٹ کی انوسمنٹ کمپنی برکشائر ہیتھ وے نے چینی الیکٹرک گاڑیوں کے بڑے ادارے بی وائی ڈی میں اپنی تمام سرمایہ کاری ختم کردی ہے۔ یہ سرمایہ کاری 2008 میں شروع ہوئی تھی اور اس نے امریکی کمپنی کو اربوں ڈالر کا منافع دیا۔
برکشائر ہیتھ وے کے ایک ذیلی ادارے جو ہانگ کانگ اور شینزین کے اسٹاک ایکسچینج میں درج بی وائی ڈی کے حصص رکھتا تھا نے مارچ 2025 تک اس کمپنی کے حصص کی قیمت صفر ظاہر کی۔
برکشائر ہیتھ وے کی جانب سے معلومات مئی میں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو جمع کروائی گئی ایک رپورٹ میں سامنے آئی جسے سب سے پہلے سی این این نے رپورٹ کیا۔
چینی کمپنی بی وائی ڈی نے گزشتہ 17 سالوں کے درمیان سرمایہ کاری اور تعاون کے لیے برکشائر ہیتھ وے کا شکریہ ادا کیا۔
اوماہا سے تعلق رکھنے والی اس سرمایہ کاری کمپنی نے اگست 2022 میں سب سے پہلے بی وائی ڈی کے حصص میں کمی شروع کی جب اس نے 1.33 ملین حصص فی حصص اوسطاً 277 ہانگ کانگ ڈالر (تقریباً 35.7 امریکی ڈالر) کی قیمت پر فروخت کیے۔
اس کے بعد کمپنی نے مسلسل حصص فروخت کر کے اپنی ملکیت کو کم کیا، اور ہانگ کانگ اسٹاک ایکسچینج کے قوانین کے مطابق جب حصص 5 فیصد سے کم ہو جاتے ہیں تو اسے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔
برکشائر ہیتھ وے نے بی وائی ڈی سے شاندار منافع کمایا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے قبل جب اس نے تقریباً 230 ملین ڈالر خرچ کرکے 225 ملین حصص خریدے جو اس وقت 10 فیصد حصص کے برابر تھے تو اسٹاک کی قیمت تقریباً 8 ہانگ کانگ ڈالر فی حصص تھی۔ حصص کی فروخت شروع کرنے کے بعد بھی بی وائی ڈی نے ترقی جاری رکھی اور گزشتہ سال اس نے ایلون مسک کی ٹیسلا کو عالمی فروخت میں پہلی بار پیچھے چھوڑ دیا۔ اس کی کامیابی کی وجہ سستی قیمتوں پر متنوع مصنوعات کی پیشکش تھی۔
بی وائی ڈی کی مارکیٹ ویلیو ایشیا کے مالیاتی مرکز ہانگ کانگ میں ایک ٹریلین ہانگ کانگ ڈالر سے زیادہ اور شینزین میں 975 بلین یوآن (تقریباً 137 بلین امریکی ڈالر) ہے۔ کمپنی کے چیئرمین اور سی ای او وانگ چوانفو چین کے گیارہویں امیر ترین شخص ہیں، جن کی مجموعی دولت 24.4 بلین ڈالر ہے۔
بی وائی ڈی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ 2025 کے لیے اپنا 5.5 ملین الیکٹرک گاڑیوں کی عالمی فروخت کا ہدف پورا نہیں کر سکے گی۔ اس کی وجہ شدید مسابقت اور چینی حکام کی جانب سے اس شعبے کی قیمتوں میں کمی کی حکمت عملی پر تنقید ہے جو معیشت میں قیمتوں کے دباؤ کو بڑھا رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert