بلوچستان کو گیس کی فراہمی میں امتیازی سلوک، ہائیکورٹ نے آئین کی خلاف ورزی قرار دیدیا ‘ حکم جاری

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائیکورٹ نے صوبے کو گھریلو صارفین کے لیے دیگر صوبوں کے مقابلے میں انتہائی کم گیس فراہم کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین کے آرٹیکل 25 کی صریح خلاف ورزی اور امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ عدالت نے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی ایل) کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل بینچ نے سید نذیر آغا اور دیگر کی آئینی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایس ایس جی سی ایل کے جنرل منیجر کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بلوچستان کے گھریلو صارفین کو یومیہ 60 ملین کیوبک فٹ (ایم ایم سی ایف ڈی) گیس فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب کو 407 اور سندھ کو 198 ایم ایم سی ایف ڈی گیس دی جاتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اعداد و شمار واضح طور پر امتیازی سلوک کو ظاہر کرتے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ وفاقی حکومت اور ایس ایس جی سی ایل آئین کے آرٹیکل 158 کی بھی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جس کے تحت گیس کی پیداوار والے صوبے کو استعمال میں پہلی ترجیح حاصل ہے۔
عدالت نے سردیوں کی آمد کے پیش نظر کوئٹہ شہر کے مکینوں کو درپیش مشکلات سے بچانے کے لیے ایس ایس جی سی ایل کے جنرل منیجر کو فوری طور پر اپنے ہیڈ آفس سے رابطہ کرکے گیس کا پریشر بڑھانے کی ہدایت کی۔
عدالت نے چیف سیکریٹری بلوچستان، جو ایس ایس جی سی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن بھی ہیں، کو حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کے ساتھ اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں اور آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت بلوچستان کو اس کا حق دلانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر رپورٹ پیش کریں۔ کیس کی مزید سماعت 4 نومبر 2025 کو ہوگی
