ایران معاہدے کا ایک ایک لفظ پریس کانفرنس میں سامنے لاؤں گا تاکہ میڈیا درست انداز میں کوریج کرے

واشنگٹن (قدرت روزنامہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدے کا ایک ایک لفظ پریس کانفرنس میں سامنے لاؤں گا تاکہ میڈیا درست انداز میں کوریج کرے، ہم ایران کو رقم ادا کرنے کے پابند نہیں ہیں، ایران مذاکرات مکمل کرکے خود نارمل ریاست بننا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جی سیون سمٹ کے موقع پر یواے ای صدر شیخ بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔
صدر ٹرمپ نے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصدشروع سے ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا تھا جس کو حاصل کیا، آبنائے ہرمز جمعے تک جہاز رانی کیلئے مکمل طور پر کھل جائے گی، ایران مذاکرات مکمل کرکے نارمل ریاست بننا چاہتا ہے، ایران خود مذاکرات چاہتا ہے تاکہ دنیا میں پرامن ملک کی طرح رہ سکے۔
ایران کا محاصرہ بہت اچھا رہا، امریکی بحریہ کو مبارکباد دیتا ہوں۔
ایران ابراہم اکارڈ کی سب سے بڑی رکاوٹ تھااب امید ہے ابراہم اکارڈ میں مزید ممالک شامل ہوں گے، ہم ایران کو رقم ادا کرنے کے پابند نہیں ہیں۔ بہت جلد ایران معاہدے کا ایک ایک لفظ پریس کانفرنس میں سامنے لاؤں گا۔امید ہے ایران کے ساتھ معاہدے کا دوسرا مرحلہ جلد مکمل ہوگا۔ ایران پر سیٹلائٹ کیمروں سے ہمیشہ نظر رکھیں گے۔ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو عوام کے سامنے لفظ بہ لفظ پڑھنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نہ صرف اس دستاویز کو جاری کروں گا بلکہ ممکنہ طور پر ایک پریس کانفرنس بھی کروں گا اور اسے آپ کے سامنے لفظ بہ لفظ پڑھوں گا، تاکہ میڈیا اسے درست انداز میں پیش کرے کیونکہ یہ ایک انتہائی اہم دستاویز ہے۔ انہوں نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اوباما کا معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کو تباہی کی طرف لے جا سکتا تھا۔ وہ ایک انتہائی خراب معاہدہ تھا جو ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار کرتا تھا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کا مجوزہ معاہدہ اس کے برعکس ہے اور جوہری ہتھیار کی طرف راستہ نہیں بلکہ جوہری ہتھیار کے خلاف ایک مضبوط دیوار ہے۔
