بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ شورش نہیں، کرپشن ہے: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان یا نام نہاد شورش نہیں بلکہ کرپشن ہے، جس نے صوبے کے اداروں، معاشرتی ڈھانچے اور نوجوانوں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسدادِ کرپشن ڈے کے موقع پر بیوٹمز یونیورسٹی میں منعقدہ بین الیونیورسٹیز اسپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کرپشن کے خاتمے کے بغیر ترقی، انصاف اور بہتر طرزِ حکمرانی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

میر سرفراز بگٹی نے اپنی حکومت کے احتسابی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سے کرپشن کے تدارک کے لیے نیب کے ساتھ ساتھ سی ایم انسپیکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی)، اینٹی کرپشن اور دیگر محکمہ جاتی جوابدہی کے عمل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ احتساب کے عمل کو سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر رکھا گیا ہے اور اداروں کو مکمل خودمختاری حاصل ہے۔ شفافیت کا ثبوت دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ سی ایم آئی ٹی کے چیئرمین نے اپنے ہی بھائی کے خلاف رپورٹ مرتب کی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔

نوجوانوں کو قوم کا حقیقی سرمایہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کی اصل طاقت بندوق نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باشعور اور ایماندار نوجوان ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کسی جھوٹے پروپیگنڈے کا حصہ نہ بنیں بلکہ تحقیق اور سچائی کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا، “حکومت سے اختلاف ممکن ہے مگر ریاست نے کوئی گناہ نہیں کیا”۔

وزیر اعلیٰ نے کرپشن کی وسیع تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف مالی بدعنوانی تک محدود نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنا اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی کرنا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست سے محبت کا ثبوت نعروں سے نہیں بلکہ کردار، قانون کے احترام اور ایمانداری سے ظاہر ہوتا ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے عزم ظاہر کیا کہ بلوچستان کے وسائل عوام کی امانت ہیں اور انہیں صرف عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دیانت دار افسران کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور بدعنوان عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ آج کرپشن کے خلاف متحد ہو جائیں تو آنے والی نسلوں کو ایک صاف، شفاف اور مضبوط بلوچستان ورثے میں ملے گا۔
