بلوچستان ہائیکورٹ کا لوڈشیڈنگ پر سخت ایکشن، چیف سیکریٹری اور پرنسپل سیکریٹری وزیر اعلیٰ بلوچستان کو شوکاز نوٹس


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبے میں کیسکو (QESCO) کی جانب سے بلاجواز اور طویل لوڈشیڈنگ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی اور وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری عمران زرکون کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت عالیہ نے کیس کی سماعت کے دوران حکومتی اداروں کی جانب سے پیش کردہ جوابات کو “غیر تسلی بخش” قرار دے دیا اور دونوں اعلیٰ افسران کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ بجلی کے بل بروقت ادا کرنے والے صارفین کو نادہندگان (ڈفالٹرز) کے اعمال کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ ہائیکورٹ نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور کیسکو کو صوبے بھر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کیسکو کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ٹیوب ویل سولرائزیشن پالیسی کے تحت کسی بھی صارف کا کنکشن منقطع کرنا غیر قانونی ہے اور اس پر فوری عمل درآمد روکا جائے۔ عدالت عالیہ نے صوبائی حکومت کو ہدایت کی کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مشاورت کرکے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے اور آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کی جائے۔
کیس کی مزید سماعت 28 اکتوبر 2025 کو ہوگی۔

WhatsApp
Get Alert