کوئٹہ میں جائیدادوں کی فروخت میں سنگین فراڈ کا انکشاف! افغان مہاجرین ایک مکان 3 لوگوں کو بیچ کر فرار
سستے کے لالچ میں شہری لٹنے لگے، جعلی اسٹامپ پیپرز کا بھی استعمال، انتظامیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ(ڈیلی قدرت نیوز) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں افغان مہاجرین کی جانب سے ہجرت سے قبل اپنی جائیدادیں فروخت کرنے کے عمل میں سنگین فراڈ کا انکشاف ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد شہریوں کے لاکھوں روپے ڈوبنے کا خدشہ ہے۔
تفصیلات کے مطابق کوئٹہ شہر، سریاب، نواں کلی اور دیگر علاقوں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ملک چھوڑ کر جانے والے بعض افغان مہاجرین اپنے مکانات، دکانیں اور دیگر جائیدادیں ایک سے زائد (دو یا تین) مختلف خریداروں کو فروخت کر کے روانہ ہو رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کئی افغان خاندان فوری طور پر ملک چھوڑنے کی جلدی میں اپنے گھر اور دکانیں مارکیٹ سے انتہائی کم قیمتوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ اسی کم قیمت کے لالچ میں آ کر شہری بغیر مکمل تصدیق اور چھان بین کے رقوم ادا کر دیتے ہیں۔ بعد میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ جو جائیداد انہوں نے خریدی ہے، وہ کسی اور شخص کو بھی فروخت کی جا چکی ہے۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس فراڈ میں بعض عناصر جعلی اسٹامپ پیپرز کا سہارا لے رہے ہیں، جس کے ذریعے بعد میں دوہری ملکیت کے دعوے دائر کیے جاتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں اصل خریدار کے پیسے یا تو مکمل طور پر ڈوب جاتے ہیں یا پھر وہ ایک نئے قانونی تنازع میں پھنس جاتا ہے۔
اس سنگین صورتحال پر قانونی ماہرین اور سماجی حلقوں نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جائیداد کی خریداری سے قبل نادرا اور لینڈ ریکارڈ سے مکمل تصدیق ضرور کریں۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ مکمل قانونی دستاویزات کے بغیر کوئی ادائیگی نہ کی جائے اور اگر بیچنے والا افغان شہری ہے تو محکمہ داخلہ یا ضلعی انتظامیہ سے اس کی حیثیت اور جائیداد کی ملکیت کی تصدیق لازمی کروائی جائے۔
شہریوں نے حکومت بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف فوری ایکشن لے تاکہ شہریوں کے سرمائے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور دوہری ملکیت کے جھگڑوں کا سدباب کیا جا سکے۔
