“میرے خلاف گھٹیا زبان استعمال ہوئی، واجبات نہ ملے تو اسلام آباد جا کر حق چھین لیں گے” وزیر اعلیٰ پختونخوا
"وزیراعظم نے کہا 'پوچھ کر بتاتا ہوں'، تو میں نے بھی جواب دیا 'میں بھی لیڈر سے پوچھ کر بتاؤں گا

سہیل آفریدی کا کرک میں وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام
کرک(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کرک میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو صوبے کے مالیاتی حقوق ادا نہ کرنے پر سخت نتائج کی دھمکی دی ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر واجبات نہ ملے تو عوام کے ساتھ اسلام آباد جا کر اپنا حق چھین لیں گے۔ تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ نے اپنی روایتی پگڑی اتار کر انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن (آئی ایس ایف) کی ٹوپی پہن لی، جس پر نوجوانوں نے بھرپور نعرے بازی کی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ جب بانی چیئرمین عمران خان نے انہیں وزیر اعلیٰ نامزد کیا تو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ نے ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی عام نوجوان یا مڈل کلاس کا فرد اعلیٰ عہدوں پر پہنچے۔ انہوں نے الزام عائد کیا، “ڈی جی آئی ایس پی آر نے خود پشاور آکر میرے خلاف گھٹیا زبان استعمال کی،” لیکن انہوں نے جواب مہذب انداز میں دیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپنی گفتگو کا احوال سناتے ہوئے کہا، “میں نے وزیراعظم کو فون کیا اور قانونی و آئینی طور پر اپنے قائد عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت مانگی، تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ ‘میں پوچھ کر بتاتا ہوں’۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب وزیراعظم نے انہیں ملاقات کیلئے بلایا تو “میں نے بھی جواب دیا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان سے پوچھ کر بتاؤں گا”۔ سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ وہ اور ان کی حکومت عمران خان کے نظریے کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی دباؤ میں نہیں آئے گی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو صوبے کے حقوق کیلئے سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں واجب الادا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کیلئے سالانہ 100 ارب کا وعدہ کیا گیا تھا، جس کے 550 ارب روپے بقایاجات ہیں اور نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا حصہ 19.4 فیصد بنتا ہے، جو انہیں نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے خبردار کیا، “ہم پہلے آئینی اور قانونی طریقے سے اپنا حق مانگیں گے، اگر ہمارا حق نہ دیا گیا تو میں عوام کے پاس آؤں گا اور ہم اسلام آباد جا کر اپنا حق چھین لیں گے۔”
انہوں نے کرک کے عوام سے وعدہ کیا کہ ان کے قدرتی وسائل، بشمول گیس اور معدنیات، پر پہلا حق انہی کا ہے اور ان کے حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جائے گا۔ جلسے کے دوران پیش کیے گئے ‘سپاس نامے’ کو منظور کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کرک کیلئے موقع پر ہی متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا، جن میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کرک کو اپ گریڈ کرنا، بانڈہ داؤد شاہ کالج کو یونیورسٹی کیمپس کا درجہ دینا، لتمبر گرلز کالج کو فعال کرنا، خوړہ روڈ کی فنڈنگ اور دیگر سڑکوں کی تعمیر کیلئے فنڈز کی فراہمی شامل ہیں۔
انہوں نے گڈ گورننس کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہوگی اور کوئی بھی سرکاری افسر عوام کا خادم بن کر کام کرے گا، بادشاہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی پروٹوکول کے خلاف ہیں اور عوام کیلئے راستے بند کرنے کی روایت ختم کریں گے، صرف سیکیورٹی کی مجبوری کے تحت ایک منٹ کیلئے راستہ روکا جا سکتا ہے جس پر بھی وہ عوام سے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 14 نومبر کو آئی ایس ایف کا یوم تاسیس بھرپور طریقے سے منایا جائے گا اور وہ خود مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے۔
