نیا عمرانی معاہدہ ضروری ہے، قوموں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے: خوشحال خان کاکڑ

کوئٹہ/درگئی کوئٹہ (قدرت روزنامہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نجات کے لیے قرارداد لاہور (23 مارچ 1940) کی روشنی میں ایک نیا عمرانی معاہدہ لازم و ضروری ہے اور قومی اسمبلی میں قوموں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کے پاس محض چار محکمے رہیں اور باقی تمام محکمے صوبوں کے اختیار میں دیے جائیں۔
درگئی بار ایسوسی ایشن کے دورے کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید مطالبات میں کہا کہ تمام اقوام کو اپنے وسائل پر مکمل حق ملکیت حاصل ہونا چاہیے اور فوج میں ہر قوم کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے وکلاء برادری سے اپیل کی کہ وہ موجودہ غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے وعدوں پر مستقل عملدرآمد کا فقدان اور بعد ازاں آئینی حقوق سلب کرنے والی سازشوں نے ملک کو مشکلات میں ڈالا۔ انہوں نے استدلال کیا کہ 1970 کے انتخابات کے بعد بنگال کی صورتحال، مارشل لاء دور اور 17ویں ترمیم جیسی تبدیلیوں نے صوبائی خودمختاری اور قوموں کے حقوق متاثر کیے، جبکہ تاریخی طور پر بنائی گئی 18ویں ترمیم نے جزوی طور پر حقوق بحال کیے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں پارلیمنٹ کو “ربڑ اسٹیمپ” بنا کر عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو غیر آئینی و غیر قانونی قانون سازی کے ذریعے محدود کیا گیا ہے، جس کے خلاف اتحاد اور مزاحمت لازمی ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پشتونخوا وطن پر جعلی دہشت گردی اور لاقانونیت مسلط کی گئی ہے جبکہ علاقے کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار جاری ہے — ان مسائل کے خلاف پشتون قوم کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے۔
درگئی بار ایسوسی ایشن کے صدر صفدر عباس نے بھی مہمان رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وکلا نے ہمیشہ آئین اور قانون کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ پارٹی قائدین نے وکلا سمیت پشتون وطن کے ہر مکتبہ فکر اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ پشتون متحدہ محاذ کی تشکیل کے لیے آگے آئیں اور مشترکہ جدوجہد کا حصہ بنیں۔
