کوئٹہ کے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار، گاہی خان چوک فلائی اوور کئی سال بعد بھی نامکمل

نیو سبزل روڈ سے سپنی روڈ تا ایئرپورٹ روڈ پر کام سست روی کا شکار، انڈر پاس یا فلائی اوور کی تعمیر تاحال شروع نہ ہو سکی


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ترقیاتی منصوبوں پر سست روی اور غیر معیاری کام نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کے باوجود “سی ایم کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ” کے بیشتر منصوبے تاخیر کا شکار ہیں جبکہ بعض اسکیموں پر برسوں گزرنے کے باوجود کام مکمل نہیں ہو سکا۔
تفصیلات کے مطابق گاہی خان چوک فلائی اوور منصوبہ کئی سال گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث شہریوں کو روزانہ ٹریفک جام اور بدترین مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی طرح نیو سبزل روڈ کے سپنی روڈ سے ایئرپورٹ روڈ تک کے پورشن پر کام نہایت سست رفتاری سے جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق اس منصوبے کو ملانے والے انڈر پاس یا فلائی اوور کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں کی جا سکی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کے عمل میں سنگین تاخیر اور تکنیکی کمزوریاں موجود ہیں۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر سست رفتاری اور ناقص معیار نے کوئٹہ کے انفراسٹرکچر کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستے، مرکزی سڑکیں اور لنک روڈز کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ ترقیاتی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق “سی ایم کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ” کے تحت اربوں روپے کے منصوبے منظور کیے گئے تھے جن میں گاہی خان چوک فلائی اوور، اسپنی روڈ تا ایئرپورٹ لنک روڈ، سریاب روڈ کی توسیع اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری شامل ہے، مگر عملی پیشرفت نہ ہونے کے برابر ہے۔
سماجی اور سیاسی حلقوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں پر ترجیحی بنیادوں پر کام تیز کیا جائے، شفاف نگرانی کے لیے آزاد آڈٹ کمیشن تشکیل دیا جائے اور تاخیر کے ذمہ دار افسران و ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

WhatsApp
Get Alert