کوئٹہ‘منوجان روڈ پر خاتون ٹیچر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت، مرکزی ملزم کے اعترافی بیانات حاصل
ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مقدمہ مضبوط بنایا جا رہا ہے، دوسرے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری — ایس ایس پی عمران قریشی

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)منوجان روڈ پر دو ہفتے قبل پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں قتل ہونے والی خاتون ٹیچر کے کیس میں *سیرایس کرائم ونگ کے ایس ایس پی عمران قریشی* نے تحقیقات میں اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ *پولیس نے ایک مرکزی ملزم سے اعترافی بیانات حاصل کر لیے ہیں* جبکہ دوسرے ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایس ایس پی عمران قریشی کے مطابق وہ حال ہی میں سیرایس کرائم ونگ میں تعینات ہوئے ہیں اور *یہ کیس اعلیٰ حکام کی خصوصی ہدایت پر ترجیحی بنیادوں پر لیا گیا ہے۔* وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سمیت انتظامی و عسکری حکام مسلسل کیس کی پیش رفت سے باخبر رہے اور پولیس کو فوری کارروائی کی ہدایت دی۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں *موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ملوث تھے، ایک ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ دوسرے نے فائرنگ کی۔* ابتدائی فوٹیج اور ملزم کے اعترافی بیان نے تحقیقات کی راہ ہموار کی ہے۔ تاہم ایس ایس پی نے واضح کیا کہ *پولیس محض زبانی اقرار پر انحصار نہیں کرے گی بلکہ ڈیجیٹل اور فزیکل شواہد سے اعترافات کی تصدیق* کے بعد ہی انہیں قانونی ثبوت کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
ایس ایس پی عمران قریشی نے کہا کہ *”پروردگار کا کرم ہے کہ ہماری ٹیموں اور عوامی تعاون سے اہم شواہد ملے ہیں، ایک مرکزی ملزم تک پہنچ چکے ہیں، دوسرے کی گرفتاری کے لیے گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔”* انہوں نے مزید کہا کہ پولیس واقعے کے سی سی ٹی وی ریکارڈ، موٹر سائیکل کی فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر تفتیش کو حتمی مرحلے تک لے جا رہی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ *پولیس کی تفتیشی معاونت جاری رکھیں* اور اگر کسی کے پاس ملزمان کے بارے میں معلومات ہوں تو فوری طور پر کرائم ونگ ہیلپ لائن یا قریبی تھانے کو آگاہ کریں۔
ایس ایس پی نے کہا کہ *خواتین اساتذہ پر حملے جیسے واقعات معاشرے کی تعلیم دوست کاوشوں کو نقصان پہنچاتے ہیں،* اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نوعیت کے جرائم کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پرعزم ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ *تمام ملزمان کی گرفتاری تک تفتیش جاری رہے گی* اور مقدمے کو مضبوط ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔
