اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ‘ “غیر جمہوری عمل کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟” بلاول–مولانا ملاقات کے بعد عادل بازئی کی ٹوئیٹ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی *عادل بازئی* نے چیئرمین پیپلز پارٹی *بلاول بھٹو زرداری* اور جے یو آئی (ف) کے سربراہ *مولانا فضل الرحمٰن* کی ملاقات کے بعد ایک *زو معنی ٹویٹ* کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی۔
اپنے بیان میں عادل بازئی نے لکھا کہ
> “پی ٹی آئی سے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی کا عہدہ بھی چھننے لگا؟ کیا مولانا صاحب 1973 کے آئین کے تناظر میں غیر جمہوری عمل کا ساتھ دیں گے یا نہیں؟”
عادل بازئی نے اپنے ٹویٹ میں اشارہ دیا کہ ماضی میں بھی ایسی مثال موجود ہے جب *2002 کے عام انتخابات کے بعد* قومی اسمبلی میں *ای آر ڈی (ARD)* کی واضح اکثریت کے باوجود *مخدوم امین فہیم* کے بجائے *ایم ایم اے کے مولانا فضل الرحمٰن* کو اُس وقت کے صدر *جنرل پرویز مشرف* کی جانب سے *اپوزیشن لیڈر* مقرر کیا گیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، عادل بازئی کا یہ بیان حالیہ بلاول-مولانا ملاقات کے بعد سامنے آنا کسی ممکنہ *سیاسی جوڑ توڑ یا اپوزیشن بینچوں کی نئی صف بندی* کی طرف اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) کے درمیان حالیہ رابطے پارلیمانی سیاست میں *اہم پیش رفت* کا سبب بن سکتے ہیں، تاہم فی الحال کسی باضابطہ معاہدے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

WhatsApp
Get Alert