پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر شدید احتجاج، جنید اکبر کا عدلیہ سے اظہار یکجہتی – ‘بتائیں ملک آئین سے چلے گا یا ڈنڈے سے؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے باہر عدالتی احکامات کی مبینہ پامالی اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو 9 اپریل 2022 سے یرغمال بنایا گیا ہے اور 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے اسے مزید کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
جنید اکبر نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ایک جیل سپرنٹنڈنٹ یا حوالدار بھی انہیں ماننے سے انکار کر رہا ہے، جو معزز عدلیہ کی توقیری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا، “ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی چلے گی یا ڈنڈا چلے گا؟”
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ان تمام ججز کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑی ہے جو انصاف کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ججز پر زور دیا کہ اگر ان پر کوئی دباؤ ہے تو وہ عوام کو آگاہ کریں، وکلاء اور عوام آئین و قانون کی بالادستی کے لیے ان کا ساتھ دیں گے۔
جنید اکبر نے بانی چیئرمین عمران خان کے کیسز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بریت اور القادر ٹرسٹ کیس دانستہ طور پر نہیں لگائے جا رہے کیونکہ جس دن انصاف ہوگا، عمران خان، بشریٰ بی بی اور دیگر تمام بے گناہ قیدی رہا ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کا احتجاج پرامن ہے اور وہ کوئی سڑک بند نہیں کر رہے۔ یہ ان کا آئینی حق ہے کہ وہ بطور پاکستانی شہری کہیں بھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عدلیہ سے اظہار یکجہتی کرنا اور ان تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ اگر وہ آئین کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
انہوں نے صوبائی معاملات کے بجائے اسلام آباد میں احتجاج پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں ہوگی، صوبے میں ترقی بے معنی ہے۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بند کمروں کے فیصلے ملک اور صوبوں پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔
