پاک افغان کشیدگی برقرار، چمن بارڈر 19ویں روز بھی بند
سرحدی جھڑپوں کے بعد تجارتی سرگرمیاں معطل، تاجروں اور زمینداروں کو اربوں روپے کا نقصان، مذاکرات ناکام

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاک افغان حکام کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جس کے باعث چمن سرحد 19ویں روز بھی ہر قسم کی آمدورفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
10 اکتوبر کو دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد سرحد سیل کر دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف تجارت بلکہ عام شہریوں کی نقل و حرکت بھی بند ہوچکی ہے۔
سرحدی بندش کے باعث درجنوں تاجر، مزدور اور عام شہری دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجروں کے مطابق طویل بندش کے باعث ان کے مالی وسائل ختم ہو چکے ہیں جبکہ فریش فروٹ کے سیزن میں انگور اور انار کی سپلائی رکنے سے زمینداروں اور تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
تاجر برادری نے حکومت سے فوری طور پر سرحد کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تجارت بحال ہو اور پھنسے ہوئے افراد کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
