پشتون عوام کو وسائل پر اختیار کے بغیر امن و خوشحالی ممکن نہیں، تمام وطنپرست قوتیں متحد ہوں — خوشحال خان کاکڑ

مردان / کوئٹہ (قدرت روزنامہ)
پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی طرف سے مردان کے زیرِ اہتمام پیر شانور پل، تخت بھائی اور جلالہ میں منعقدہ عوامی اجتماعات سے پارٹی چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی، مرکزی سیکرٹری علی حیدر، گوہر علی، صوبائی صدر اشرف ہوتی اور ممتاز مبارز نزیف خان نے خطاب کیا اور کہا کہ پشتون عوام کی محرومی، وسائل پر اختیار نہ ملنے اور نظمِ حکمرانی کی ناکامی امن، خوشحالی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ پشتونخوا کی بدحالی، غربت اور بے روزگاری کی جڑیں تاریخی محرومیوں اور وسائل پر بیرونی قبضے میں ہیں، اور جب تک مقامی عوام کو اپنے وسائل اور فیصلوں پر اختیار نہیں ملے گا تب تک مسائل کا پائیدار حل ممکن نہیں۔ انہوں نے تمام وطنپرست جمہوری قوتوں پر زور دیا کہ قومی حقوق اور خوداختیاری کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کریں۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی معدوم ہوتی جارہی ہے اور اقتدار کے اہم مراکز میں اختیارات محدود حلقوں کے ہاتھ میں مرکوز ہیں جنھوں نے پارلیمان، عدلیہ اور میڈیا کو متاثر کیا ہے۔ پشتونخوا کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی توانائی کے باوجود صوبہ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا ہے اور وفاق پر صوبے کے واجبات دو ہزار ارب روپے کے قریب ہیں۔
مقررین نے تجویز پیش کی کہ بولان سے چترال تک متحدہ قومی صوبہ “پشتونخوا” کے قیام کے ذریعے پشتون قوم کو آئینی و سیاسی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ محرومیوں کا ازالہ ممکن ہو۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش کو پشتونوں کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی راستے کھولے جائیں تو علاقائی معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔ آخر میں مقررین نے کہا کہ پشتون عوام کی بقا اور خوشحال مستقبل کے لیے پشتون نیشنل فرنٹ کا قیام ناگزیر ہے۔
