پاکستان میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کے حقوق کا تحفظ ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری
سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی کی چیئرپرسن کا نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب، اقلیتی بچوں کے مسائل پر مؤثر قانون سازی اور پالیسی اصلاحات کا اعلان

اسلام آباد/کوئٹہ (قدرت روزنامہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی تقاضا نہیں بلکہ ایک قومی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ وہ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) کی جانب سے ’’پاکستان میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والے بچوں کی صورتِ حال‘‘ کے عنوان سے منعقدہ رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کر رہی تھیں۔
تقریب میں ارکانِ پارلیمنٹ، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے کارکنان اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے NCRC کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ ایک آئینہ ہے جو ان بچوں کی خاموش جدوجہد، امیدوں اور حقیقتوں کو آشکار کرتی ہے جو پاکستان کے مذہبی تنوع کی خوبصورت علامت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلام عدل، مساوات اور ہمدردی کا دین ہے، جبکہ آئینِ پاکستان تمام شہریوں کو مذہب، رنگ اور زبان سے بالاتر ہو کر مساوی حقوق اور مواقع کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 20، 21، 22، 26 اور 27 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہب کے اظہار کی آزادی اور امتیاز سے پاک تعلیم ہر بچے کا حق ہے۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اقلیتی لڑکیوں کی جبری تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادیوں کو انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات دونوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسائل فوری اور سنجیدہ حکومتی توجہ کے متقاضی ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق اس رپورٹ کے نتائج پر باضابطہ غور کرے گی اور نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ، وزارت انسانی حقوق اور نیشنل کریکولم کونسل کے ساتھ مل کر عوامی سماعتوں کا آغاز کرے گی تاکہ سفارشات کو عملی پالیسی اصلاحات میں بدلا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر کسی بچے کو تعلیم یا ترقی سے محروم نہ رکھا جائے، جہاں ایک ہندو، مسیحی، سکھ یا مسلمان بچہ یکساں عزت و اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکے۔
خطاب کے اختتام پر سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اقلیتی بچوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا:
“تم نظر آ رہے ہو، تم قیمتی ہو، اور تم اس ملک کا حصہ ہو۔”
تقریب کے اختتام پر پارلیمنٹ، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ اور سول سوسائٹی نے ایک منصف، شمولیتی اور ہمدرد معاشرہ قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا، جہاں ہر بچے کے حقوق اور وقار کا احترام یقینی بنایا جائے۔
