گورنر بلوچستان کا بڑا فیصلہ: ڈگری کالجز میں بی ایس پروگرامز ختم، صرف ایسوسی ایٹ ڈگری کی اجازت
یونیورسٹیوں میں داخلوں میں کمی اور تعلیمی معیار کے تحفظ کیلئے اقدام، کالجز کے پاس مطلوبہ فیکلٹی نہیں: نوٹیفکیشن

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)گورنر بلوچستان نے صوبے کے ڈگری کالجز میں بی ایس پروگرامز کے نفاذ کے حوالے سے سنگین خدشات کے بعد اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کالجز میں بی ایس پروگرامز ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔
گورنر سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈگری کالجز میں بی ایس پروگرامز شروع ہونے کی وجہ سے صوبے کی گیارہ (11) پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں طلباء کے داخلے تیزی سے کم ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں یونیورسٹیوں کی تعلیمی سرگرمیوں اور ریونیو پر منفی اثر پڑا ہے، جبکہ مجموعی تعلیمی معیار بھی متاثر ہوا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈگری کالجز بی ایس پروگرامز کے لیے کم فیس وصول کر رہے ہیں، لیکن ان کے پاس بی ایس سطح کی تعلیم دینے کے لیے ضروری تعلیمی عملہ اور مطلوبہ مہارت موجود نہیں ہے، جو کہ صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
گورنر بلوچستان نے ہدایت کی ہے کہ کالجز میں بی ایس پروگرامز کو فوری طور پر ختم کر کے صرف ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز (ADP) کی اجازت دی جائے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ اس سے قبل خیبر پختونخوا میں بھی کالجز میں بی ایس پروگرامز شروع کیے گئے تھے، لیکن بعد ازاں وہاں بھی یہ پروگرامز کالجز سے ختم کر دیے گئے تھے۔
