کوئٹہ ‘ عوام ادویات کو ترس گئے، سول اسپتال کے اسٹور سے 22 ملین کی دوائیں غائب

آکسیجن سلنڈر 537 کے بجائے 40 ہزار میں خرید کر خزانے کو چونا لگا دیا 30 ملین کی غیر قانونی ادویات بھی خریدی گئیں، اسپتال انتظامیہ مکمل ناکام، پی اے سی کا تحقیقات کا حکم


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں سنڈیمن پرووینشل (سول) اسپتال کوئٹہ میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں اور سنگین انتظامی بدنظمی کا انکشاف ہوا ہے۔
چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کی گئی اسپیشل آڈٹ رپورٹ کے مطابق، مالی سال 2017 تا 2022 کے دوران اسپتال انتظامیہ نے 30.016 ملین روپے مالیت کی ادویات خریدیں، لیکن سپلائی آرڈرز اور بلز میں شدید تضاد پایا گیا اور اسٹاک رجسٹر و معائنے کی رپورٹس بھی موجود نہیں تھیں۔
رپورٹ میں یہ دل ہلا دینے والا انکشاف بھی کیا گیا کہ مالی سال 2019-20 کے دوران سول اسپتال کے مرکزی اسٹور سے 22.825 ملین روپے (دو کروڑ 28 لاکھ روپے) مالیت کی ادویات غائب ہو گئیں۔ اس سنگین غفلت پر اسپتال انتظامیہ نے مضحکہ خیز مؤقف اختیار کیا کہ سابقہ فارماسسٹ نے بیماری کے باعث بروقت انٹریاں درج نہیں کیں، جس سے ریکارڈ میں خلل پیدا ہوا۔
اس کے علاوہ، آکسیجن سلنڈرز کی زائد نرخوں پر خریداری سے حکومتی خزانے کو 1.342 ملین روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ معاہدے کے تحت سلنڈرز کی قیمت 537 روپے مقرر تھی، لیکن وبائی دور میں مارکیٹ سے 40 ہزار روپے فی سلنڈر کے ناقابل یقین نرخ پر خریداری کی گئی۔
کمیٹی نے ان تمام معاملات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور ذمہ دار افسران کی شناخت اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی اور انکوائری کر کے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

WhatsApp
Get Alert