بلیدہ پکنک منانے گئے چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد، علاقے میں خوف و غم
مسخ شدہ نعشیں پہاڑی علاقے سے ملیں؛ موٹر سائیکلیں بھی جلائی گئیں؛ لواحقین کی تصدیق ایک ہفتہ قبل لاپتہ ہوئے تھے، اہلخانہ نے سوشل میڈیا پر مدد کی اپیل کی تھی

بلیدہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ ) بلوچستان کے علاقے بلیدہ جاڑین سے پکنک منانے گئے چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس سے علاقے میں شدید خوف و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جاں بحق نوجوانوں کی شناخت ذاکر ولد عبداللہ، رزاق ولد عبداللہ، صادق اور پیرجان کے ناموں سے ہوئی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق، تین نوجوانوں کا تعلق زِردان کوچہ بلیدہ سے تھا، جبکہ ایک نوجوان بٹ کورے پشت جاڑین بازار کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ اہلِ علاقہ کے مطابق یہ نوجوان تقریباً ایک ہفتہ قبل پکنک منانے کے لیے گھر سے نکلے تھے اور اسی دن سے ان کے موبائل فون بند تھے۔
ان کے اہلخانہ نے نوجوانوں کی گمشدگی کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد پوسٹس کے ذریعے عوام سے مدد کی اپیل کی تھی۔ تاہم، آج اطلاع ملی کہ چاروں دوستوں کی لاشیں جاڑین کے پہاڑی علاقے سے ملی ہیں، جو بُری طرح مسخ شدہ حالت میں تھیں۔ ذرائع کے مطابق، متاثرہ نوجوانوں کی موٹر سائیکلیں بھی مبینہ طور پر جلائی گئی ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی لواحقین اور مقامی افراد نعشوں کو وصول کرنے کے لیے پہاڑی علاقے کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
