33 سالہ قبضہ ختم: حکومت بلوچستان کا چلتن گھی مل کو فوری سیل کرنے کا فیصلہ، 23 کروڑ واجب الادا


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں حکومت نے ایک بڑا اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے کوئٹہ میں گزشتہ 33 سال سے زیر قبضہ چلتن گھی مل کو فوری طور پر سیل کرنے اور واگزار کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز نے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دی کہ چلتن گھی مل کی نجی کمپنی کے ساتھ لیز کا معاہدہ 1992 میں ہی خلاف ورزی پر ختم کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود نجی کمپنی غیر قانونی طور پر اس سرکاری املاک پر قابض رہی۔ بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قبضہ گیروں کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ اور عدالتِ عالیہ میں دائر کی گئی تمام درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ سیکرٹری انڈسٹریز کے مطابق، نجی کمپنی پر حکومت بلوچستان کے 23 کروڑ روپے سے زائد کی رقم بھی واجب الادا ہے۔


وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے 33 سالہ غیر قانونی قبضے کے معاملے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سرکاری املاک پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس طویل قبضے کو ختم کرنے میں انتظامی سست روی پر بھی سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ میر سرفراز بگٹی نے متعلقہ محکموں کو فوری اور سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سابق نجی کمپنی کے قابضین کے خلاف کارروائی کرکے مل کو جلد از جلد واگزار کرایا جائے۔ یہ فیصلہ سرکاری اراضی کو غیر قانونی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے حکومتِ بلوچستان کے عزم کا مظہر ہے۔

WhatsApp
Get Alert