بلوچستان ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 2025 پر سنگین سوالات، طلباء کا احتجاج اور عدالت سے رجوع کرنے کا انتباہ

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان میں حال ہی میں منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ 2025 کے متاثرین طلباء نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹیسٹ کے عمل اور نتائج پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ طلباء نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے بک لیٹ (Question Booklets) فراہم نہیں کیے جا رہے ہیں، جبکہ پاکستان کے دیگر صوبوں میں یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔
طلباء کا الزام ہے کہ پرنسپل بولان میڈیکل کالج اس سلسلے میں بک لیٹ فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، انہوں نے احتجاج کرنے کے بجائے پرنسپل کو باقاعدہ ای میلز بھیجے مگر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ طلباء نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں بک لیٹ فراہم نہیں کیے گئے تو وہ اپنے حق کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔
طلباء نے ٹیسٹ میں درپیش دیگر مسائل کی بھی نشاندہی کی:
ٹیسٹ 26 اکتوبر کو تاخیر سے شروع کیا گیا۔
فزکس اور کیمسٹری کے بہت سے سوالات آؤٹ آف کورس تھے۔
ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کا کل نمبر 180 تھا، لیکن جاری کیے گئے رزلٹ میں کل نمبر 200 ظاہر کیا گیا ہے، جس سے نتائج کی شفافیت پر مزید سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ متاثرین نے پی ایم اے کوئٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں تاکہ ان کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
