بلوچستان میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی سے کوئٹہ کی صنعت اور گھریلو صارفین شدید متاثر

سردی میں گیس غائب، بجلی کی 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے معاشی سرگرمیاں معطل کر دیں، کاروبار ٹھپ


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سردی کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے کئی علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور گیس کے پریشر میں شدید کمی نے شہریوں اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 16 سے 18 گھنٹے تک بجلی کی غیر اعلانیہ بندش معمول بن چکی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین بلبلا اٹھے ہیں بلکہ چھوٹی اور بڑی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بھی تقریباً معطل ہو کر رہ گئی ہے۔
دوسری جانب، سرد موسم کے آغاز سے ہی گیس پریشر اتنا کم ہو چکا ہے کہ گھریلو چولہے جلانا بھی مشکل ہو گیا ہے، جس کے سبب لوگوں کو روایتی ایندھن پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ انجمن تاجران کے نمائندوں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی اور گیس کی غیر یقینی فراہمی کی وجہ سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار خطرے میں ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کیسکو اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے ساتھ مذاکرات کر کے بلوچستان کے حصے کی بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائیں۔

WhatsApp
Get Alert