جعفر ایکسپریس کے ذریعے ڈاک اور سامان کی ترسیل معطل، بلوچستان سمیت ملک بھر میں ڈاک کا نظام متاثر
سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں،ریلوے حکام

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)محکمہ ڈاک کی جانب سے بذریعہ جعفر ایکسپریس ڈاک اور سامان کی ترسیل معطل ہو گئی ہے، جس کے باعث نہ صرف کوئٹہ بلکہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی ڈاک کے نظام میں تاخیر اور تعطل پیدا ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان پوسٹ اور ریلوے کے درمیان ایک معاہدے کے تحت محکمہ ڈاک ریلوے کو کروڑوں روپے سالانہ ادائیگی کرتا ہے تاکہ ڈاک، پارسل، مالیاتی دستاویزات اور سرکاری مراسلات بروقت مختلف شہروں تک پہنچ سکیں، تاہم ریلوے انتظامیہ کی جانب سے مسلسل تاخیر اور سامان نہ اٹھانے کے باعث محکمہ ڈاک کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
محکمہ ڈاک کے افسران کے مطابق جعفر ایکسپریس کوئٹہ تا راولپنڈی سروس کے ذریعے بلوچستان کے مختلف علاقوں کی ڈاک ملک کے دیگر حصوں میں روانہ کی جاتی تھی، مگر گزشتہ کئی ہفتوں سے یہ ترسیل مکمل طور پر معطل ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ ڈاک کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ ریلوے انتظامیہ کبھی گاڑی میں گنجائش نہ ہونے اور کبھی اسمگلنگ کے خدشات کے بہانے ڈاک کا سامان لے جانے سے انکار کر رہی ہے، جس سے سرکاری و نجی ڈاک کا پورا نظام متاثر ہو گیا ہے۔محکمہ ڈاک نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزارتِ مواصلات اور ریلوے حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ ریلوے انتظامیہ نے ڈاک کا سامان لے جانے سے انکار کیا ہو، ماضی میں بھی کئی بار جعفر ایکسپریس کے ذریعے ڈاک کی ترسیل اچانک معطل کی جا چکی ہے جس سے محکمے کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس میں ڈاک اور سامان کی ترسیل معمول کے مطابق جاری ہے۔
ان کے مطابق بعض عناصر ریلوے کے نظام کو غیر قانونی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی روک تھام کے لیے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں نے وزیرِ ریلوے اور وزیرِ مواصلات سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کر کے بلوچستان سمیت ملک بھر میں ڈاک کے نظام کو بحال کریں کیونکہ ڈاک صرف خطوط نہیں بلکہ سرکاری و عدالتی امور کی بروقت ترسیل کا اہم ذریعہ ہے۔
