“جمال رئیسانی کی رکنیت ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ووٹ کے اندراج کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی کے ووٹ کے اندراج کے خلاف دائر درخواست کی سماعت مکمل ہونے کے بعد جسٹس اعظم خان نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ درخواست گزار کے وکیل منور اقبال نے موقف اپنایا کہ جمال رئیسانی کے ووٹ کا اندراج آئین پاکستان اور الیکشن ایکٹ 2017 کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ ووٹ کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اکتوبر 2023 تھی، جبکہ ان کا شناختی کارڈ دسمبر 2023 میں جاری ہوا۔ وکیل نے الیکشن کمیشن کی جانب سے 12 جنوری 2024 کو ووٹ کا اندراج کرنے کو قانون کے منافی اور غیر آئینی اقدام قرار دیا۔
اس کے برعکس، الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ کسی منتخب رکن اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا ایک مخصوص آئینی طریقہ کار (آرٹیکل 62 اور 63) ہے جو اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے مکمل ہوتا ہے، اور عدالت براہِ راست نااہل نہیں کر سکتی۔ سماعت کے دوران جمال رئیسانی یا ان کے وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ منتخب رکن کو سنے بغیر کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت مانگی۔ ذرائع کے مطابق، عدالت کا فیصلہ آئندہ چند روز میں آنے کا امکان ہے، جو جمال رئیسانی کی رکنیت پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
