27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کابینہ میں پیش ہوگا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں آئینی عدالت کے قیام پر اتفاق — رانا ثنااللہ


اسلام آباد (ڈیلی قدرت) وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنااللہ نے انکشاف کیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ آئندہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس میں آئینی عدالت کے قیام پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اتفاق ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترمیمی مسودے کی منظوری کے بعد اسے پہلے سینیٹ اور پھر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ ترمیم کے تحت آئینی عدالت میں آٹھ ججز شامل ہوں گے اور اس کا اسٹیٹس سپریم کورٹ کے برابر ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسودہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں بھیجا جائے گا جہاں دو دن تک بحث کے بعد منظوری دی جائے گی۔ سینیٹ میں منظوری پیر کو ممکن ہے، جس کے بعد قومی اسمبلی میں تین روز میں حتمی منظوری متوقع ہے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ اتحادی جماعتوں سے مکمل مشاورت کی جا چکی ہے، اور جس چیز پر اتفاق رائے ہو گا وہ 27ویں ترمیم کا حصہ بن جائے گی، جبکہ اختلافی نکات پر بعد میں غور کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ترمیم میں دوہری شہریت ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ لوکل باڈیز الیکشن کو چار سال میں کرانا لازمی قرار دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی چاہے تو اپنی ترامیم اور تجاویز پیش کر سکتی ہے، تاہم انہوں نے کمیٹیوں سے استعفے دیے ہیں اور حکومت کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ مشیر وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کے ججز کے تقرر و تبادلے کا اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہو گا جبکہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے نظام کی کسی نہ کسی شکل میں بحالی پر بھی غور جاری ہے۔

WhatsApp
Get Alert