کوئٹہ میں دفعہ 144 کے نفاذ اور سخت سیکیورٹی اقدامات کے باعث پی ٹی آئی کوئٹہ میں جلسہ منعقد نہ کرسکی
ضلعی انتظامیہ نے ہاکی گراونڈ میں پانی چھوڑ دیا گیابلوچستان کے گیارہ اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے

کوئٹہ ریڈ زون سیل کنٹینر لگا کر تمام راستے بند پولیس کی بھاری نفری تعینات
دفعہ 144نافذ شہریوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامناکوئٹہ شہر کی سڑکیں ویران
پی ٹی آئی کا جلسہ منسوخ کردیا عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہیں ،صوبائی صدر داود شاہ کی پریس کانفرنس
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے مجوزہ جلسے سے قبل ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے شہر کو عملا بند کر دیا۔ جمعے کے روز ہونے والے جلسے سے قبل نہ صرف کوئٹہ بلکہ بلوچستان کے گیارہ اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے، جبکہ جلسہ گاہ ہاکی گرانڈ میں ضلعی انتظامیہ نے پانی چھوڑ کر مقام کو ناقابل استعمال بنا دیا۔
ذرائع کے مطابق کوئٹہ، مستونگ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن، خضدار، قلعہ سیف اللہ، ژوب، لورالائی، ہرنائی اور زیارت میں موبائل انٹرنیٹ سروس جمعے کی رات 9 بجے تک معطل رہی کاروباری،صحافیوں، اسٹوڈنس کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا ضلعی انتظامیہ کے مطابق پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے اجازت نامہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر مسترد کیا گیا ہے۔
صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت کسی بھی قسم کے اجتماع یا جلسے جلوس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلے کوئٹہ شہر میں پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، جبکہ ریڈ زون جانے والے تمام راستوں پر کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کے جلسہ گاہ ہاکی گرانڈ میں بھی پانی چھوڑ کر اسے بند کر دیا گیا ہے، جس کے باعث کارکنان اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔تحریک تحفظ آئین پاکستان کے بینر تلے پی ٹی آئی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے دفاتر کے سامنے بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔
شہر کے داخلی و خارجی راستے بند ہونے سے عام شہریوں، طلبہ، سرکاری ملازمین اور مریضوں کو اسپتالوں تک پہنچنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔شہریوں نے شکایت کی ہے کہ شہر کی مرکزی شاہراہوں اور چوراہوں پر کنٹینرز کھڑے ہونے کے باعث ٹریفک جام ہے، اور لوگ گھنٹوں تک راستوں میں پھنسے رہے۔
اسکول و کالج جانے والے طلبہ کے مطابق وہ اپنے تعلیمی اداروں تک نہیں پہنچ سکے جس سے کلاسز متاثر ہوئیں دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے صدر داود شاہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے عوام اور ورکرز کے تحفظ کے پیش نظر کوئٹہ میں ہونے والا جلسہ مخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ پارٹی دفتر میں صوبائی رہنماوں اور کارکنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہماری قیادت اور کارکنان جلسے کے انعقاد کے لیے پرعزم تھے، تاہم حکومت بلوچستان نے حالات کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش کی۔ شہر بھر میں کنٹینرز لگا کر راستے بند کیے گئے، بڑی گاڑیوں کو روک کر عوام کی سبزیاں اور پھل ضائع کیے گئے، اسپتالوں کے راستے بھی بند کیے گئے اور پانی چھوڑ کر میدان کو متاثر کیا گیا۔
یہ سب اقدامات جلسے کو ناکام بنانے اور عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے لیے کیے گئے۔داود شاہ نے کہا کہ ہمیں اطلاع ملی کہ حکومت کوئٹہ میں 26 نومبر جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی تھی۔ ہم نے اپنی صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی ٹیم سے مشاورت کی اور دو آپشنز پر غور کیا ایک یہ کہ ہر صورت میں جلسہ کیا جائے، دوسرا یہ کہ اپنے کارکنوں کے تحفظ کو ترجیح دی جائے۔
ہم نے فیصلہ کیا کہ ورکرز کے جان و مال سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اس لیے جلسہ مخر کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم دوبارہ عدالت سے رجوع کریں گے اور جلسے کے لیے نئی تاریخ حاصل کریں گے، کیونکہ ہمارا احتجاج آئینی اور جمہوری حق ہے۔ داود شاہ نے کہا کہ سرفراز بگٹی کی حکومت خوفزدہ ہے، عمران خان کا نام سنتے ہی ان کے حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے عوام نے 2024 کے عام انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دیا تھا، ہم ان کے اعتماد اور قربانیوں کا احترام کرتے ہیں۔ عوام کی مشکلات، طلبہ کے تعلیمی نقصان اور مریضوں کے لیے رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جلسہ مخر کرنے کا فیصلہ انتہائی مشکل مگر ذمہ دارانہ قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت برداشت نہیں کر پا رہی، مگر ہم ہر حال میں اپنا سیاسی سفر جاری رکھیں گے۔ ہم عدالت سے دوبارہ اجازت لے کر جلسہ ضرور کریں گے۔
