27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار، آئین کا آرٹیکل 184 ختم، سپریم کورٹ کے اختیارات واپس،’چیف آف ڈیفنس فورسز’ کا نیا عہدہ بنانے کی تجویز”
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز، آرمی چیف کو 'چیف آف ڈیفنس فورسز' کا تاحیات درجہ ملے گا

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومت کی جانب سے مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جس میں عدلیہ کے اختیارات اور فوجی ڈھانچے میں بڑی اور بنیادی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ مسودے کے مطابق، ملک میں ‘وفاقی آئینی عدالت’ قائم کی جائے گی جو آئین کی تشریح اور تمام آئینی تنازعات کے فیصلے کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات واپس لیے جائیں گے، آئین کا آرٹیکل 184 (ازخود نوٹس کا اختیار) ختم کر دیا جائے گا، اور سپریم کورٹ صرف اپیلوں اور عمومی مقدمات کی عدالت رہے گی۔
عدلیہ اور فوجی ڈھانچے میں تبدیلی:
فوجی ڈھانچہ: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو ‘چیف آف ڈیفنس فورسز’ کا نیا عہدہ دینے کی تجویز ہے، جبکہ فیلڈ مارشل اور دیگر اعلیٰ فوجی عہدوں کو تاحیات درجہ حاصل ہوگا۔
عدلیہ کے اختیارات: وفاقی آئینی عدالت میں چیف جسٹس اور چاروں صوبوں سے برابر نمائندگی ہو گی، اور ججوں کی تقرری میں وزیرِاعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا۔
ماہرین نے اس ترمیم کو عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات میں ‘بڑا تغیر’ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ ترمیم پر شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
