آئینِ پاکستان میں 27ویں ترمیم سینیٹ میں پیش — وفاقی آئینی عدالت، چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ، اور سپریم کورٹ کے اختیارات میں بڑی تبدیلیاں


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) — سینیٹ میں آئینِ پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم (Constitution (Twenty-Seventh Amendment) Act, 2025) پیش کردی گئی، جس کے تحت ملک میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام، فوجی ڈھانچے کی تنظیمِ نو اور عدالتی اختیارات کی ازسرِنو تقسیم کی تجاویز شامل ہیں۔ ترمیم کے مطابق آئین کے مختلف آرٹیکلز میں “Supreme Court” کے الفاظ کو “Federal Constitutional Court” سے بدل دیا گیا ہے، جس کے بعد آئینی معاملات اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گے، جبکہ سپریم کورٹ صرف اپیلٹ عدالت کے طور پر کام کرے گی۔
ترمیم کے تحت نیا باب 1A شامل کیا گیا ہے، جس کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، اس عدالت کا سربراہ چیف جسٹس آف فیڈرل کونسٹی ٹیوشنل کورٹ ہوگا، اور اس میں چاروں صوبوں سے مساوی نمائندگی دی جائے گی۔ چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت تین سال اور ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے۔ آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے۔
آرٹیکل 243 میں بڑی تبدیلی کے ذریعے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا عہدہ دینے اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ جیسے عہدوں کو قومی ہیروز کا درجہ دے کر انہیں تاحیات مراعات حاصل ہوں گی۔ ترمیم میں ججز کی تقرری کا نیا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت وزیراعظم اور صدر کو کلیدی کردار حاصل ہوگا اور وفاقی آئینی عدالت و سپریم کورٹ کے چیف جسٹسز تقرریوں میں مشترکہ کردار ادا کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert