دہشتگردی کی مذمت ہر نسل کے لیے ضروری، افغان مہاجرین کی پالیسی بلوچستان میں مکمل نفاذ ہے ، میر سرفراز بگٹی

اسلام آباد،کوئٹہ (قدرت روزنامہ)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مالک بلوچ کی جماعت لگتا نہیں کہ ووٹ دے گی، جبکہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے اور وہ اپنا کام بخوبی انجام دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی نشستوں کے حوالے سے ایگزیکٹو کمیٹی برائے قومی اسمبلی(ای سی سی) میں چیئرمین سینیٹ سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، اور 27ویں آئینی ترمیم میں دو اہم ترامیم کی وجہ سے اس معاملے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ کسی بھی تنازع یا اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا بہتر ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی دہشتگرد کا ہاتھ اگر معصوم شہری کے خون سے رنگا ہوا ہو، چاہے وہ کسی بھی نسل سے تعلق رکھتا ہو، اس کی شدید مذمت لازمی ہے۔ انہوں نے عوام اور سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ امن و امان اور آئین کی بالادستی کو قائم رکھنے میں کردار ادا کریں۔اس موقع پر وزیر اعلی نے افغان مہاجرین کے حوالے سے وفاق کی حکومتی پالیسی پر بھی بات کی اور کہا کہ بلوچستان میں اس پالیسی پر مکمل عمل درآمد ہو رہا ہے اور صوبائی انتظامیہ اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے لیے صوبے میں رہائشی انتظامات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں تاکہ کسی قسم کے مسائل پیدا نہ ہوں اور عوام کے ساتھ امن و امان برقرار رہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام پسماندہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں اور صوبائی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں، بشمول تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری لائی جائے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ بلوچستان کے عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت دن رات کوشاں ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ پہنچے تھے، جہاں صوبے کے آئینی، سیاسی اور معاشی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم میں بلوچستان کے مفادات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں
