غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی میں تیزی، 7 لاکھ 20 ہزار 579 افراد واپس، حکومت کا مزید سخت انتباہ جاری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان سے غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے عمل میں نمایاں تیزی آگئی ہے، جس کے لیے حکومت نے مزید سخت انتباہ جاری کر دیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 7 لاکھ 20 ہزار 579 افراد کو چمن بارڈر کراسنگ کے ذریعے افغانستان واپس بھیجا جا چکا ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے حالیہ سفارتی تناؤ کے بعد اس عمل میں 350 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف گزشتہ 30 دنوں میں 1 لاکھ 57 ہزار 767 غیر قانونی افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجا گیا، جو اوسطاً 5 ہزار 300 افراد روزانہ بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف جاری کارروائی میں نمایاں تیزی آئی ہے۔
چمن بارڈر پر تعینات حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کے عمل کو زیادہ منظم بنا دیا گیا ہے۔ خواتین، بچوں اور خاندانوں کے لیے علیحدہ انتظامات کیے گئے ہیں، جب کہ میڈیکل اسکریننگ، سفری دستاویزات کی تصدیق اور افغان حکام کے ساتھ رابطے کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ واپسی کا عمل محفوظ اور منظم انداز میں مکمل ہو۔
بارڈر مینجمنٹ کے ایک سینیئر افسر کا کہنا ہے کہ ’یہ عمل انسانی بنیادوں پر اور منظم انداز میں جاری ہے۔ کراسنگ پوائنٹ پر ٹرانسپورٹ، خوراک اور ابتدائی طبی امداد جیسی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔‘
حال ہی میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور آمدورفت کے ضوابط پر تناؤ میں اضافے کے بعد یہ عمل مزید تیز ہوا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تمام غیر قانونی غیر ملکی شہریوں کو، چاہے ان کی قومیت کچھ بھی ہو، اپنے ملک واپس جانا چاہیے یا قانونی دستاویزات مکمل کرنی چاہییں۔
حکام کے مطابق چمن میں واپسی کے عمل میں تیزی بہتر انتظامات اور حکومت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ امیگریشن قوانین پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے۔ اسی نوعیت کی کارروائیاں دیگر سرحدی مقامات، خصوصاً طورخم پر بھی جاری ہیں، جہاں روزانہ ہزاروں افراد کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں کام کرنے والی انسانی حقوق اور ہمدردی کی تنظیمیں صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مدد کر رہی ہیں تاکہ انہیں واپسی کے عمل میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
حکام نے واضح کیا کہ یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام غیر قانونی افغان شہری واپس نہیں بھیج دیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے ذمہ دارانہ نظم و نسق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ غیر قانونی افغان شہریوں کی وطن واپسی کے عمل میں غیر معمولی تیزی آگئی ہے، چمن کے راستے اب تک 7 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد واپس بھیجے جا چکے ہیں۔ عمل میں 350 فیصد اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان غیر قانونی ہجرت پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ انسانی بنیادوں پر سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنا رہا ہے۔
