بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات، بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات ، پنجاب جانے والی شاہراہ بند ‘ ٹرین سروس کی بحالی بھی نہ ہوسکی ‘ موبائیل انٹرنیٹ شہری حدود تک محدود

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان حکومت نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر بڑے پیمانے پر حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے صوبے بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس 16 نومبر تک معطل کر دی ہے، جب کہ این-70 قومی شاہراہ (قلعہ سیف اللہ تا ڈیرہ غازی خان) پر 14 نومبر تک تمام ٹرانسپورٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق حب، چمن، لسبیلہ، ژوب، قلات، پنجگور، خاران، خضدار، کیچ، لورالائی، سبی، نوشکی، کوہلو، گوادر اور پشین سمیت درجنوں اضلاع میں انٹرنیٹ و موبائل خدمات بند رہیں گی۔ سروس معطلی سے طلبہ، تاجروں اور صحافیوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں، آن لائن تعلیم، کاروباری سرگرمیوں اور میڈیا کوریج میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔ دوسری جانب کوئٹہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے، تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکے بڑھا دیے گئے ہیں اور اہم سرکاری عمارتوں — بشمول بلوچستان اسمبلی، ہائی کورٹ، وزیرِاعلیٰ و گورنر ہاؤس — پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے بھی 14 نومبر تک شاہراہ پر بسوں، ٹیکسیوں اور نجی گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی ہے، تاہم مقامی ٹرانسپورٹ کو استثنیٰ حاصل ہے، جبکہ جعفر ایکسپریس ٹرین سروس 13 نومبر تک بند رہنے کے بعد سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد دوبارہ بحال کی جائے گی۔
