قومی ترانے کے دوران پی ٹی ایم ارکان کا بیٹھے رہناعلامتی احتجاج یا بغاوت؟

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)خیبر پختونخوا امن جرگے میں اس وقت تنازعہ پیدا ہوگیا جب قومی ترانہ بجنے پر تمام شرکاء احتراماً کھڑےہوگئے، تاہم پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما نوراللہ ترین اور حنیف پشتین اپنی جگہ بیٹھے رہے۔
خیبر پختونخوا امن جرگے میں تمام شرکاء قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوئے مگر پی ٹی ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے.
قومی ترانے کیلئے کھڑے نہ ہونا ملک دشمن ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے.pic.twitter.com/9pKyZqTT6C
— Haroon ul Rasheed (@Haroonn_natamam) November 12, 2025
معروف صحافی ہارون رشید نے اپنی ایکس (سابق ٹوئٹر) پوسٹ میں اس واقعے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونا ملک دشمن ایجنڈے کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ واقعہ بعد ازاں سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کا باعث بن گیا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق قومی ترانے کے دوران احتراماً کھڑا ہونا ریاست سے وابستگی اور اتحاد کی علامت ہے، جبکہ اس موقع پر بیٹھے رہنا غیر ضروری سیاسی علامت بن سکتا ہے جو قومی وحدت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں سب ارکان قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوئے، مگر پی ٹی ایم کے ارکان اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ یہ ترانہ شہیدوں کی قربانیوں کی علامت ہے، اور اگر اس کا احترام نہیں کیا جاتا تو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا بھی کوئی حق نہیں۔
