میرا گھر میرا آشیانہ! حکومتی ہاؤسنگ فنانس اسکیم سے فائدہ کیسے اٹھائیں؟ آسان طریقہ، تمام معلومات


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان میں شہریوں کیلئے رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے نئی فنانس اسکیم میرا گھر میرا آشیانہ کا آغاز کیا جاچکا ہے جس کے تحت پہلی بار گھر خریدنے والے افراد یا فلیٹس، پلاٹس، یا مکانات کی تعمیر کے خواہاں شہری آسان شرائط پر قرض حاصل کر سکیں گے۔
اس اسکیم کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے شہریوں کو اپنے گھر کے حصول میں مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
اس اسکیم کے تحت قرض کی تقسیم دو درجات میں کی گئی ہے۔ پہلے درجے میں درخواست دہندگان کو سبسڈی والے سود کی شرح 5 فیصد پر دو ملین روپے تک قرض فراہم کیا جائے گا جبکہ دوسرے درجے میں قرض کی زیادہ حد تین اعشاریہ پانچ ملین روپے تک ہوگی جس پر سود کی شرح 8 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
قرض کی زیادہ سے زیادہ ادائیگی کی مدت 20 سال رکھی گئی ہے اور پہلے 10 سال کے لیے مارک اپ سبسڈی لاگو ہوگی۔
اس اسکیم میں قرض لینے والے افراد کو 10 فیصد ایکویٹی فراہم کرنی ہوگی جبکہ بینک 90 فیصد تک ہاؤسنگ کی لاگت مالی معاونت کے طور پر فراہم کریں گے۔
اسکیم میں حصہ لینے کے لیے درخواست دہندگان کا قومی شناختی کارڈ ہونا ضروری ہے اور وہ پہلے سے کسی رہائشی یونٹ کے مالک نہ ہوں۔
قرض کی فراہمی کے اختیارات میں گھر یا فلیٹ کی خریداری، کسی موجودہ پلاٹ پر تعمیر، یا پلاٹ خرید کر اس پر تعمیر شامل ہے۔ اسکیم میں چھوٹے مکانات کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ مرلے تک اور اپارٹمنٹس کے لیے 1360 مربع فٹ تک کی یونٹس شامل ہیں۔
یہ قرضہ تمام کمرشل بینکوں، اسلامی بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ اقدام ملک بھر میں کم اور متوسط آمدنی والے شہریوں کے لیے سستی ہاؤسنگ تک رسائی بڑھانے کی ایک تاریخی پیش رفت ہے۔

WhatsApp
Get Alert