ژوب کی بدبختی سینیٹر، ایم این اے، رکن اسمبلی اور صوبائی وزیر صحت حصہ مانگتے ہیں، فضل قادر مندوخیل
گورنر بلوچستان ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتا ہے جن کو عوام نے مسترد کیا تھا

میں عوام کے لیے کام کروں گا، ذاتی فائدے کے لیے نہیں، تعلیم، صحت اور روزگار میری ترجیحات ہیں،روکن بلوچستان اسمبلی
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جمعیت علمائے اسلام کے روکن بلوچستان اسمبلی فضل قادر مندوخیل نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ژوب کی بدقسمتی یہ ہے کہ سینیٹر، ایم این اے، رکن اسمبلی اور صوبائی وزرا حصہ مانگنے میں مصروف ہیں، جبکہ گورنر بلوچستان ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتا ہے اور یہ لوگ ژوب کے حقیقی نمائندے نہیں ہیں۔
فضل قادر مندوخیل نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ ژوب کے عوام نے موجودہ گورنر بلوچستان کو مسترد کیا تھا، مگر وہ پھر بھی گورنر بن گئے اور ہر معاملے میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ علمدار روڈ کی نشست ہزارہ قوم کے لیے تھی، مگر زرک خان کو لایا گیا جو اب اپنا حصہ مانگ رہا ہے۔
اسی طرح صوبائی وزیر صحت بخت کاکڑ، ایم این اے جمال شاہ اور سینیٹر بلال مندوخیل بھی ذاتی مفاد کے لیے فنڈز اور سہولیات کے مطالبے میں شامل ہیں۔فضل قادر مندوخیل نے بتایا کہ وہ ژوب کے عوام کے لیے تین بنیادی شعبوں یعنی تعلیم، صحت اور روزگار میں نمایاں اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغل دور میں بنایا گیا ایک اسکول ڈیم 2021 کی شدید بارشوں کے بعد ٹوٹ گیا تھا، اس کی مرمت اور نئی عمارت سازی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
مزید برآں، انہوں نے ایک بڑا سکول بھی منظور کرایا ہے تاکہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کا مقصد عوام کی فلاح اور کمیونٹی کے لیے کام کرنا ہے، نہ کہ ذاتی یا انڈیویجول مفاد کے لیے۔ فضل قادر مندوخیل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور ہر کام میں شفافیت اور انصاف کی توقع رکھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ روزگار اور دیگر سرکاری سہولیات میں مداخلت کرنے والے عناصر کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ ژوب میں حقیقی ترقی اور عوامی فلاح یقینی بنائی جا سکے۔
