“بلوچستان میں انٹرنیٹ ریاست کے خلاف استعمال ہو رہا ہے ،صرف تعلیمی اداروں کو فائبر آپٹک انٹرنیٹ ملے گا ‘ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صوبے میں امن و امان، سیکیورٹی اور کرپشن کے حوالے سے سخت اور دوٹوک موقف اپنایا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ ریاست کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، لہٰذا اب صرف بلوچستان بھر کے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کو فائبر آپٹک انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی سہولیات مل سکیں، جبکہ اس کے غلط اور منظم استعمال کو روکنا ضروری ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی نظر میں دہشت گردی چیلنج نہیں بلکہ اصل چیلنج کرپشن ہے، جس پر سخت کارروائی ہوگی۔ سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاست طاقت کا استعمال کرے تو صورتحال بہتر ہو جائے گی، اور ریاست ہر صورت اپنی رٹ قائم کرے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر لائی جا رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نوجوان اس وقت ناراض ہیں، اور انہیں ریاست کے قریب لانا نہایت ضروری ہے، جس کے لیے وہ خود یونیورسٹیوں میں جا کر طلبہ سے ڈائیلاگ کر رہے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی ذمہ داری پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر قبیلے کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقوں کی حفاظت کرے، بصورت دیگر دہشت گرد داخل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے علاقے بیکھڑ کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں آج بھی امن قائم ہے اور ان کے علاقے کے لوگ ریاست کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرداری نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے قبائلی نظام کو نقصان پہنچایا ہے اور مارنے مرنے والوں کے ساتھ ریاست کو سختی سے نمٹنا ہو گا۔
