وہ پاس بلاتے، مگر میں نہیں جاتا تھا۔۔ بوبی دیول اور دھرمیندر میں دوریوں کی کیا وجہ تھی؟ ذاتی زندگی سے متعلق انکشاف


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)بالی وڈ کے مشہور اداکار بوبی دیول نے حال ہی میں اپنی نجی زندگی اور خاندان کے رشتوں سے جڑی ایسی باتیں بیان کیں جنہوں نے سب کو حیران کر دیا۔
بوبی نے بتایا کہ، ایک زمانہ تھا جب وہ اپنی ہیرو والی شناخت، کرداروں اور مقبولیت کی وجہ سے فلمی دنیا کی توجہ کا مرکز تھے۔ والد دھرمیندر اور بھائی سنی دیول کے ساتھ بھی انہوں نے کئی فلمیں کیں، مگر روشنیوں کے پیچھے ایک ایسی خاموش کہانی تھی جسے بہت کم لوگ جانتے تھے۔
بوبی کے مطابق، وہ اپنے بیٹوں آریامن اور دھرم کو زندگی کا بھرپور وقت دینا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے بھی وہ دوری محسوس کریں جو کبھی اُن اور اُن کے والد دھرمیندر کے درمیان دراڑ بن گئی تھی۔ بچپن میں والد کے مسلسل مصروف رہنے کی وجہ سے بوبی ان کے قریب نہیں ہو پاتے تھے۔
انہوں نے کہا، والد اکثر کہتے تھے میرے پاس بیٹھو، اپنی باتیں کرو… لیکن مجھے جھجک محسوس ہوتی تھی، ڈر لگتا تھا، اس لیے میں خاموش رہ جاتا تھا۔
بوبی دیول کا سب سے بڑا خوف یہی ہے کہ کہیں کل کو ان کے بیٹے بھی اُن سے اسی طرح فاصلہ محسوس نہ کریں۔ اسی لیے وہ شعوری طور پر اپنے بچوں کو وقت دیتے ہیں تاکہ وہ ان کی زندگی میں کمی کے بجائے سہارا بن سکیں۔
بات صرف یہی تک محدود نہیں رہی — بوبی نے اپنے خاندان کے اُس دردناک موڑ پر بھی روشنی ڈالی جب دھرمیندر نے پہلی اہلیہ (بوبی اور سنی دیول کی والدہ) کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کر لی تھی۔ دھرمیندر نے اداکارہ ہیما مالنی کو اپنا شریکِ حیات چنا۔ اس فیصلے نے گھر کے اندر ہلچل مچا دی، بیٹے اپنی ماں کی تکلیف دیکھ کر والد سے دور ہوتے جا رہے تھے۔
کیونکہ ہندو مذہب میں دوسری شادی کی اجازت نہیں، اس لیے دھرمیندر اور ہیما مالنی نے اسلام قبول کرکے نکاح کیا۔ یہ فیصلہ بچوں کے لیے بہت بڑا دھچکا تھا، اور اس کا اثر پورے خاندان پر پڑا۔ تاہم وقت کے ساتھ دھرمیندر نے اپنی پہلی اہلیہ اور بچوں کو یقین دہانی کروائی، جس کے بعد آہستہ آہستہ غلط فہمیاں ختم ہوئیں اور رشتے دوبارہ جُڑنے لگے۔
یہ پوری کہانی بوبی دیول کی زندگی کے اُن پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے جہاں شہرت کے پیچھے چھپا درد، خاموشیاں، اور ایک باپ کا اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط رشتہ قائم رکھنے کی بے ساختہ خواہش نظر آتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert