وزیراعلیٰ مریم نوا ز کا پنجاب بھر میں سپیشل طلباء کیلئے ہمت کارڈاورسپیشل ایجوکیشن مراکز کی تعمیر نو کا اعلان،ہر سنٹر کو ٹرانسپورٹ بھی مہیا کی جائے گی


لاہور(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوا ز نے سپیشل طلباء کیلئے ہمت کارڈ اورپنجاب بھر کے سپیشل ایجوکیشن مراکز کی تعمیر نو کا اعلان کیا۔ہر ڈسٹرکٹ میں سنٹر آف ایکسی لینس فار سپیشل سٹوڈنٹس بنانے کا اعلان کیا۔ہر سپیشل ایجوکیشن سنٹر کیلئے ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے سکول میل پروگرام برائے سپیشل ایجوکیشن سٹوڈنٹس اور سنٹرآف ایکسی لینس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپیشل افراد پر توجہ نہیں دے رہے بلکہ سرمایہ کاری کررہے ہیں تاکہ وہ مفید شہری بن سکیں۔ آٹسٹک بچوں کیلئے پہلے سرکاری آٹزم سکول کا قیام کسی نعمت سے کم نہیں۔ محترم اساتذہ اور سپیشل ہیروز کو سلام پیش کرتی ہوں۔ سپیشل بچوں کو اللہ تعالیٰ نے وہ خوبیاں دیں جو عام انسان میں نہیں ہوتی۔ سماعت سے محروم بچے وہ چیزیں بھی سن سکتے جو سماعت رکھنے والے نہیں سن سکتے۔ بصارت اور سماعت سے محروم بچے خداداد صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ صوبائی معاون خصوصی برائے سپیشل ایجوکیشن ثانیہ عاشق اور ان کی پوری ٹیم کو خراج تحسین اور شاباش دیتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ وزرات اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد پنجاب کے تمام شہروں میں سپیشل ایجوکیشن سنٹر ز بنانے کا اعلان کیا تھا۔صرف ڈیڑھ سال میں سپیشل ایجوکیشن، سنٹر آف ایکسی لینس کے خواب کو ثانیہ عاشق نے سچ کر دکھایا۔ سپیشل بچوں کی خدمت پر ثانیہ عاشق اور ان کی ٹیم کو اللہ اجردے گا۔ 28 اضلاع میں سنٹر آف ایکسی لینس بن گئے جبکہ دیگر اضلاع میں جلد بننے جارہے ہیں۔ پورے صوبے میں سپیشل افراد کیلئے313 اداروں کو بہتر بنائیں گے۔ سپیشل بچوں کی خدمت پر ان کے والدین بھی خصوصی طور پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ بطوروزیراعلیٰ سپیشل بچوں کیلئے کام کرنا میرا فرض ہے۔ ہمارے خاندان میں ایک سپیشل افراد ہے جسکی وجہ سے گھر میں بہت رونق رہتی ہے۔ اپنی بہن سمیت سپیشل بچوں کے تمام والدین کو سلام پیش کرتی ہوں، ہمت کو داد دیتی ہوں۔ سپیشل بچے بہت خاص ہوتے ہیں، گھر میں رحمتیں آتی اور بلائیں ٹل جاتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ سپیشل بچے کی تکلیف سے والدین انتہائی پریشان بھی ہوتے ہیں۔ پنجاب میں جاری تمام پراجیکٹ کی ویڈیوز اور تصویریں اور ورچوئل دورے کرکے جائزہ لیتی اور خوش ہوتی ہوں۔ لاہور میں سٹیٹ آف دی آرٹ سنٹر آف ایکسی لینس اپنی نوعیت کا تاریخی پراجیکٹ ہے۔ لیہ، بھکر، جنوبی پنجاب، شمالی پنجاب وسط پنجاب میں سنٹر آف ایکسی لینس میں ہزاروں سپیشل بچوں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ والدین، سپیشل بچوں، تعلیم،صحت، سڑکوں، روزگار اور نرخ کی فکر کرتی ہوں۔ وزارت اعلیٰ تفریح یا پاور کا ذریعہ نہیں، بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ حکومتی عہدہ بوجھ ہے دیکھا جائے تو اس سے بڑی کوئی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ ایسا پنجاب چاہتی ہوں جہاں حکومت گھر کے دروازے پر دستک دیکر سپیشل بچوں کو سکول لایا جائے۔ سکول میل پروگرام کے 313 اداروں میں 45 ہزار بچوں کو غذائیت سے بھر پورراشن دیا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکول میل پروگرام میں دیئے جانیوالے دودھ اور بسکٹ خود کھاکر معیار کو چیک کیا۔ سکول میل پروگرام سے سپیشل بچوں کی انرولمنٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ سپیشل بچے اپنے والدین پر کبھی بھی بوجھ نہیں بنے۔ سپیشل بچوں کیلئے بسوں،کلاس میں سی سی ٹی وی کیمروں سے مانٹیرنگ کیا جارہا ہے۔ سپیشل بچوں کی حفاظت کیلئے سی سی ٹی وی کیمروں سے لیس60 بسیں آچکی ہے۔ سپیشل ایجوکیشن سکولوں اور بسوں میں ہراسانی کے سدباب کیلئے سی سی ٹی وی مانیٹرنگ سنٹر قائم کیا ہے۔ بریل بک سے پڑھتے ہوئے بچوں کو دیکھنا معجزے سے کم نہیں۔ سمارٹ کلاس روم میں سپیشل بچے سمارٹ بورڈ آپریٹ کررہے ہیں۔ سپیشل بچوں کیلئے ضرورت کے مطابق بلڈنگ، کلاس روم اور ٹائلٹ وغیرہ بنارہے ہیں۔ سپیشل بچوں کیلئے ہمت کارڈ کا مقصد والدین کو احساس دلانا کہ حکومت بھی آپ کیساتھ ہے۔ پنجاب بھر میں 40ہزارسپیشل بچوں کی ہیلتھ سکریننگ،30 ہزار بچوں کا علاج کیا گیا ہے۔ علاج کرکے سینکڑوں سپیشل بچوں کو سماعت کے قابل بنایا۔ سپیشل بچوں کو ضرورت کے مطابق ویل چیئر، ہیرنگ اور معاون آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔ سنٹر آف ایکسی لینس میں فزیوتھراپی، سپیچ تھراپی،لیبز اور آڈیو ویڈو روم بنارہے جارہے ہیں۔ سنٹر آف ایکسی لینس میں سپیشل بچوں کو آئی ٹی سکلز سکھار ہے ہیں تاکہ انہیں آسانی سے جاب مل جائے۔ سنٹر آف ایکسی لینس کے 8سپیشل بچوں کو آئی ٹی سکل کی بدولت پی آئی ٹی بی میں جاب ملنے پر خوشی ہے۔ گزشتہ حکومت نے عوام اور سپیشل بچوں پر توجہ کی بجائے گالی گلوچ، دنگا فساد، گریبان پکڑنے پر ٹائم ضائع کیا۔ ڈیڑھ سال میں جتنے پراجیکٹ شروع کیے وہ بھی مجھے کم لگتے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ الیکٹرو بس میں سپیشل افراد کیلئے آٹو میٹک ریمپ بنائے گئے ہیں اور ویل چیئر بھی موجود ہیں۔ پاکستان کا پہلا سرکاری سکول آف آٹزم کاجلد افتتاح کریں گے۔ سکول آف آٹزم کے داخلے پر ہزاروں درخواستیں وصول ہوئیں۔ لاہور میں بننے والا سکول آف آٹزم جیسے ادارہ دنیا بھر میں کوئی کی مثال نہیں۔

WhatsApp
Get Alert