حکومتی پالیسیوں سے تنگ 2 ہزار تاجر افغانستان منتقل اور ڈھائی سو ارب روپے بینکوں سے نکال لیے گئے، سیاسی و مذہبی قائدین بلوچستان


کوئٹہ ( ڈیلی قدرت )سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے کہا ہے کہ بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں عوام کا روزگار زراعت لائیو اسٹاک کے بعدنان کسٹم گاڑیوں پر ہے جو روزمرہ کمائی سے اپنے گھر کا چولہہ چلاتے ہیں لیکن موجودہ حکومت نے سرحدوں کو بند کرنے کے بعد کابلی گاڑیوں پر بھی گھیرائو تنگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن بلوچستان میں ایسے علاقے ہے جو ٹیکس سے استشنا ہے لیکن اس کے خلاف کارروائی کرنا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ناروا عمل پر نظر ثانی کریں نہ ہونے پر عوام کیساتھ ملکر بھر پور احتجاج کرینگے ‘یہ بات جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع ‘جماعت اسلامی کے صوبائی امیر رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ‘تحریک انصاف کے صوبائی صدر دائودشاہ کاکڑ‘پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صد رقہار ودان نے کہا کہ ہر حکومت آنے کے بعد عوام کے یہ توقعات ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں روزگار فراہم کریں لیکن موجودہ حکومت سے ایسے لگ لرہا ہے کہ روزگار اور انصاف تو دور کی با ت ہے عوام سے دو وقت کی روٹی چھیننے کیلئے کبھی سرحدیں بند کبھی تجارتی مارکیٹوں پر کسٹم کے زریعے چھاپے لگواکر تاجروں کے اربوں روپے مال ضبط کرتے ہیں حخومت کی اس کے ناروا راور عوام دشمن پالیسی پر گزشتہ روز چیمبر آ ف کامرس کے صدر نے اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ عوام پر تجارت کے دروازے بند کرنے کیلئے بلوچستان سے 2 ہزار تاجر افغانستان اور دیگر ممالک میں شفٹ ہو کر اپنے کاروبار سیٹ کر کر لیا جس سے بلوچستان کے تمام بینکوں سے ڈھائی سو ارب روپے نکالے گئے جس سے یہا ں کے بینکس اور دیگر تجارتی کاروبا ر پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے انہوںنے کہا کہ حکومت کی اس رویہ پر دیگر شعبوں میں جس طرح لوگوں اور نوجوانوں کو نکال کربے روزگار کیا جارہا ہے اسطرح نجی بینکوں نے بھی اپنے اسٹاف کم کرنے کی اقدامات شروع کر دیئے اور اس وقت مختلف بینکوں سے ایک ہزار کے قریب لوگوں کو بے روزگار کیا گیا ہے اس طرح اقدامات سے عوام میں مایوسی کے ساتھ ساتھ نفرتیں پیدا ہو گی جس سے یہاں کے امن امان کو بھی خطرہ ہے جس کی تمام تر زمہ داری موجودہ حکمرانوں پر ہوگی انہوںنے مطالبہ کردیا ہے کہ موجودہ حکومت عوام میں نفرتیں پھیلانے سے عوام کو روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تمام سرحدوں کو حکومتی پالیسی کے تحت کھول دیا جائے تاکہ یہاں لاکھوں بے روزگار خاندانوں کا چولہہ جل سکے ۔

WhatsApp
Get Alert