جب تک نظامِ انصاف مؤثر نہیں ہوگا خواتین محفوظ نہیں ہو سکتیں،متاثرہ خواتین کے لیے عدالت تک رسائی بھی ایک آزمائش بن چکی ہے، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری


اسلام آباد ( ڈیلی قدرت ) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری منعقد ہوا جس کا موضوع جنس پر مبنی تشدد اور بیرون ملک قید پاکستانیوں کی صورتحال تھا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ گزشتہ بیس برسوں میں جنس پر مبنی تشدد کے خلاف قانون سازی کے باوجود سزا کی شرح بہت ہی کم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے واقعات میں سے 70 فیصد رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور جو کیس رپورٹ ہوتے ہیں ان میں بھی قومی سطح پر سزا کی شرح تقریباً پانچ فیصد ہے۔ بعض کیٹیگریز میں یہ شرح صفر اعشاریہ پانچ فیصد تک رہ جاتی ہے جبکہ گھریلو تشدد کے کیسز میں سزا کی شرح صرف ایک اعشاریہ تین فیصد ہے۔ صوبائی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے سینیٹر رحمٰن نے بتایا کہ اسلام آباد میں 2024 میں غیرت کے نام پر قتل کے 22 کیس رپورٹ ہوئے مگر ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔ ریپ کے 176 کیسز میں سے صرف سات میں سزا ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر قتل کے 143 کیس رپورٹ ہوئے مگر کوئی سزا نہیں ہوئی، جبکہ ریپ کے 258 کیسز میں سے صرف ایک میں سزا ہوئی۔ سندھ میں ریپ کے 243 اور گھریلو تشدد کے 375 کیسز میں ایک بھی سزا نہیں ہوئی۔ بلوچستان میں غیرت کے نام پر قتل کے 32، ریپ کے 21 اور اغوا کے 185 کیسز میں کوئی سزا نہیں ہوئی۔ گھریلو تشدد کے 160 کیسز میں سے صرف 25 میں سزا ہوئی، جو ملک میں اس کیٹیگری میں سب سے زیادہ ہے، لیکن پھر بھی انتہائی کم ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے، مگر غیرت کے نام پر قتل کے 225 کیسز میں سے صرف دو میں سزا ہوئی۔ سینیٹر رحمٰن نے کہا کہ جب تک نظامِ انصاف مؤثر نہیں ہوگا، قوانین بنانے سے خواتین محفوظ نہیں ہو سکتیں۔ چیئرپرسن کمیٹی، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ متاثرہ خواتین کے لیے عدالت تک رسائی بھی ایک آزمائش ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پولیس میں خواتین کی تعداد صرف 1 سے 1.5 فیصد ہے،۔میڈیکو لیگل طریقہ کار میں خامیاں ہیں، ڈی این اے شواہد اکثر غلط طریقے سے سنبھالے جاتے ہیں، تفتیش کا دورانیہ اوسطاً 1.6 ماہ ہے اور چالان تیار ہونے میں پانچ ماہ تک لگ جاتے ہیں، جس سے پراسیکیوشن مزید کمزور ہو جاتی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ اگلے اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل کو مدعو کیا جائے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول پولیس، پراسیکیوشن اور میڈیکل حکام کو ایک ساتھ بٹھا کر نظامی کمزوریوں پر تفصیل سے بات کی جائے اور بہتری کے لیے عملی تجاویز دی جائیں۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے نمائندوں کو اگلے اجلاس میں بلایا جائے اور متعلقہ رپورٹس کم از کم تین دن پہلے فراہم کی جائیں تاکہ مؤثر تیاری ممکن ہو۔ سینیٹر مری نے ڈے کیئر سینٹرز کے مسئلے کا ذکر کیا اور بتایا کہ کئی مراکز میں بنیادی سہولیات تک دستیاب نہیں، حتیٰ کہ باتھ روم بھی نہیں ہوتا۔ انہوں نے سفارش کی کہ کمیٹی ان معاملات کا مکمل جائزہ لے، کیونکہ بچوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک غیر مناسب ماحول میں رہیں۔ مزید برآں کمیٹی کو بیرون ملک قید پاکستانیوں کی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ کتنے پاکستانی مختلف ممالک میں زیرِ حراست ہیں۔ انہیں کون سی قانونی معاونت فراہم کی گئی اور قونصلر رسائی کی کیا صورتحال ہے۔ وطن واپسی کے لیے کیا کوششیں کی جا رہی ہیں اور ان کی رہائی میں کن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے راستے یورپ لے جانے کے نام پر جعلی ویزوں کے ذریعے شہریوں کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ خاندانوں کے عزیز و اقارب کو مافیا گمراہ کرتی ہے اور انہیں بیرون ملک جان لیوا حالات میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ جب ایسے واقعات کو روکنے کے لیے پہلے سے اقدامات ممکن ہیں تو پھر لوگوں کو مجرم بننے یا غیر قانونی طور پر ٹھہر جانے کی اجازت کیوں دی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے آگاہی بہت ضروری ہے، خاص طور پر ایسے خطرات سے متعلق جیسے منشیات کی اسمگلنگ وغیرہ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آگاہی سوشل میڈیا اور ایئرپورٹس کے ذریعے متعلقہ اداروں، خصوصاً اے این ایف سمیت دیگر کے ساتھ مل کر مؤثر طریقے سے فراہم کی جائے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ حالیہ کریک ڈاؤن، شواہد کے معیار میں بہتری، اسمگ…

WhatsApp
Get Alert