دہشتگردی کی حمایت بند کرو یا پھر نتائج بھگتو! ڈی جی آئی ایس پی آر ملک دشمنوں پر برس پڑے


راولپنڈی(قدرت روزنامہ)افواج پاکستان کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ رواں سال ملک میں مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد مارے گئے جن میں 136 افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں کے خلاف سال بھر میں 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے جن میں سے 12,857 خیبرپختونخوا اور 53,309 بلوچستان میں انجام دیے گئے۔
لیفٹیننٹ جنرل نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ 4 نومبر سے اب تک 4,910 آپریشن کیے گئے جن میں 206 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاک افغان سرحد انتہائی مشکل راستوں پر مشتمل ہے جہاں 1229 کلومیٹر طویل بارڈر پر 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں۔ بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک ہوتا ہے جس کی وجہ سے سکیورٹی کے انتظامات مشکل ہیں۔
لیفتیننٹ جنرل نے کہا کہ بارڈر فینس تب تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک اسے اچھی نگرانی اور فائر کوریج حاصل نہ ہو۔ خیبرپختونخوا میں بارڈر کے دونوں طرف گاؤں بٹے ہوئے ہیں جو آمد و رفت کنٹرول کرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
افغان طالبان کی سہولت کاری پر سنگین الزامات:
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے لیکن افغانستان کی طالبان حکومت دہشت گردوں کو پاکستان میں داخلے کی مکمل مدد دے رہی ہے۔ افغان سرحدی علاقے گورننس کے مسائل اور غیر مؤثر انتظام کی وجہ سے دہشت گردی کے لیے سازگار ماحول بن گئے ہیں۔
دہشت گردی کی مالی اور اسلحہ فراہمی کا ذمہ دار کون؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سرحد پار سے دہشت گردوں کی سازشیں، اسمگلنگ اور غیر قانونی گاڑیوں کی آمد روکنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ یہ غیر قانونی گاڑیاں خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان حکومت دہشت گردوں کی مدد بند کرے۔ افغانستان میں القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے جو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتی ہے۔ پاکستان نے افغان حکومت کو مکمل ثبوت فراہم کیے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔
لیفتیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اگر کسی تیسری پارٹی کے ذریعے قابل تصدیق میکانزم بنایا جائے تو پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اس بات کی اطلاع ثالث ممالک کو بھی دے دی گئی ہے۔
انہوں نے طالبان کے ان دعووں کو بھی مسترد کیا کہ دہشت گرد پاکستانی مہمان ہیں اور کہا کہ یہ بات غیر منطقی ہے۔

WhatsApp
Get Alert