عمران خان سے 29 روز بعد بہن کی ملاقات، ذہنی ٹارچر کا الزام

عمران خان بہت غصے میں تھے کہا کہ یہ مجھے ذہنی ٹارچر کر رہے ہیں ان سب کا ذمہ دار ایک شخص ہے، عظمی خان


راولپنڈی(قدرت روزنامہ)اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی بہن عظمیٰ خان کی 29 روز بعد ملاقات ہوگئی، عظمی خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت الحمدللہ ٹھیک ہے مگر وہ بہت غصے میں تھے اور انکشاف کیا کہ انہیں ذہنی ٹارچر کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عمران خان سے ان کی بہن عظمی خان کی ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر عظمی خان اکیلی گیٹ نمبر 5 سے اڈیالہ جیل روانہ ہوئیں۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے پیغام دیا کہ ون پرسن ون ملاقات کی اجازت ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو خصوصی گاڑی میں ناکہ سے گاڑی پر جیل لے جایا گیا۔
جیل حکام نے 29 روز بعد بانی سے ملاقاتیں بحال کی ہیں تاہم علیمہ خان اور بیرسٹر سلمان اکرم راجا کو اجازت نہیں مل سکی۔
اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ جیل کی تاریخ کے سخت ترین سیکیورٹی انتظامات کیے گئے۔
پی ٹی آئی خواتین اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود رہی، ملاقات کی اجازت ملنے پر کارکنوں کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔
ملاقات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے سیکیورٹی سخت کی گئی جبکہ اڈیالہ روڈ پر واقع تمام تعلیمی اداروں اور دکانوں کو بند کروادیا گیا۔
پی ٹی آئی نے 6 وکلاء رہنماؤں کی فہرست جیل حکام کو بھیجی۔ فہرست میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سلمان اکرم راجا اور بیرسٹر سلمان صفدر کا نام شامل ہے جبکہ علی زمان، سردار نبی اور طلعت محمود کے نام بھی فہرست میں شامل تھے۔
عمران خان بہت غصے میں تھے، عظمی خان
عظمی خان اپنے بھائی عمران خان سے 20 منٹ کی ملاقات کے بعد باہر آئیں اور اڈیالہ کے باہر ہی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عمران خان کی صحت الحمد اللہ ٹھیک ہے اور وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔
عظمیٰ خان کے مطابق بانی نے کہا ہے کہ یہ کسی سے بات کراتے ہیں اور نہ ہی ملاقات کی اجازت ہے، یہ مجھے ذہنی ٹارچر کررہے ہیں، ان سب کا ذمہ دار ایک شخص ہے۔
عظمی خان نے مزید کہا کہ عمران خان بڑے غصے میں تھے، انہیں سارا دن کمرے میں بند رکھا جاتا ہے اور کبھی کبھی باہر نکالتے ہیں۔
ملاقات کے موقع پر پی ٹی آئی کے ورکرز کی بڑی تعداد اڈیالہ جیل کے قریب جمع رہی جس نے شدید نعرے بازی کی۔
دفعہ 144 نافذ و سیکیورٹی سخت
ضلعی انتظامیہ نے راولپنڈی میں 3 دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی جس کے تحت کسی بھی سیاسی یا مذہبی اجتماع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
اڈیالہ جیل روڈ پر اضافی پانچ ناکے قائم کر دیے گئے ہیں، اڈیالہ جیل کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان جاری کر دیا گیا ہے۔
داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ پانچ، فیکٹری ناکہ اور گورکھپور پر پولیس کی اضافی نفری تعینات رہے گی جبکہ 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز اور خواتین پولیس اہلکار بھی تعینات رہیں گی۔ اڈیالہ جیل کی سیکیورٹی کے لیے 700 سے زائد پولیس اہلکار و افسران تعینات ہوں گے۔
سیکیورٹی پر مامور اہلکار اینٹی رائٹ سامان سے لیس ہوں گے، اڈیالہ جیل کی نفری کو اسٹینڈ بائی پر رکھا جائے گا۔ اڈیالہ جیل روڈ پر چیکنگ کے بعد گاڑیاں کو آگے جانے کی اجازت ہوگی۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے امن و امان کو یقینی بنائیں گے۔ دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تعلیمی ادارے بند
گورکھپور اور گردونواح میں موجود تمام نجی تعلیمی ادارے بھی بند کر دیے گئے۔ پولیس نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر گورکھپور بازار کے تاجروں کو آج بازار بند رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔
گورکھپور دائیگل ناکے چکری انٹر چینج اڈیالہ روڈ کے مختلف مقامات پر 8 سے زائد ناکے لگائے جائیں گے۔

WhatsApp
Get Alert