جیل میں ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے ، ملاقات کے بعد عمران خان کی بہنوں کا الزام

وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے میر جعفر اور میر صادق ہیں، ان کی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں: عمران خان کی پارٹی رہنماؤں کو وارننگ


ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیں گے: علیمہ خان کا اعلان
عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو تحریک کی قیادت سونپ دی، سہیل آفریدی کو خراج تحسین
راولپنڈی(قدرت روزنامہ)بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ان کی بہنوں عظمیٰ خان اور علیمہ خان نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا اہم ترین پیغام قوم اور پارٹی ورکرز تک پہنچایا ہے۔عمران خان کی صحت اور ذہنی ٹارچر کا الزام عظمیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان سے کئی ہفتوں بعد ملاقات ہوئی ہے۔ خان صاحب جسمانی طور پر صحت مند ہیں لیکن وہ بہت غصے میں اور ڈسٹرب ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا ہے جہاں چار ہفتوں سے انہیں کسی سے ملنے نہیں دیا گیا جو کہ بدترین “مینٹل ٹارچر” (ذہنی تشدد) ہے۔ ۔ انہوں نے بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
پارٹی ڈسپلن اور “میر جعفر” کی وارننگ عمران خان نے پارٹی کے اندرونی معاملات پر سخت پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ جو پارٹی ممبران “وکٹ کے دونوں طرف” کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ پارٹی کے “میر صادق اور میر جعفر” ہیں اور ان کے لیے پی ٹی آئی میں اب کوئی جگہ نہیں ہے۔ عمران خان نے پارٹی کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان بار کونسل کے الیکشن میں حامد خان اور سلمان اکرم راجہ جس امیدوار کو نامزد کریں، پوری پارٹی متحد ہو کر اس کی حمایت کرے۔

تحریک کی قیادت اور سیاسی فیصلے عظمیٰ خان کے مطابق، چونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ جیلوں میں ہے یا روپوش ہے، اس لیے عمران خان نے تحریک چلانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں لیڈرز جو بھی کال دیں گے، پی ٹی آئی ورکرز اس پر لبیک کہیں گے۔ عمران خان نے سہیل آفریدی کی جیل کے باہر استقامت سے بیٹھنے پر تعریف کی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
جیل کے باہر دھرنے کا اعلان علیمہ خان نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف اب وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات کے مطابق جب تک عمران خان سے ان کے 6 فیملی ممبران، 6 وکلاء اور 6 سیاسی رہنماؤں کی ملاقات بحال نہیں کی جاتی، وہ ہر منگل (فیملی ڈے) اور جمعرات (سیاسی ملاقات کا دن) کو اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیں گے اور وہیں بیٹھیں رہیں گے۔
کسانوں اور قوم کے لیے پیغام عمران خان نے کسانوں، شوگر مافیا اور لینڈ مافیا کے ہاتھوں پسنے والے عوام کے لیے بھی پیغام بھیجا کہ اگر قوم نے اس غلامی اور مافیاز کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو ان کی آنے والی نسلیں بھی غلام رہیں گی۔ انہوں نے قوم کو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کی تلقین کی ہے۔

WhatsApp
Get Alert