این ایف سی میں خیبرپختونخوا کا مقدمہ پیش کر دیا، دہشتگردی سے انفراسٹرکچر تباہ ہوا مگر حق نہیں مل رہا، بانی پی ٹی آئی ہمارے دلوں میں بستے ہیں:سہیل آفریدی


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج این ایف سی اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ سامنے رکھا ہے، قبائلی اضلاع کے انضمام کے باوجود وسائل کی تقسیم ساڑھے تین صوبوں میں ہو رہی ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ 25 ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی اضلاع کو انتظامی طور پر ضم کیا گیا لیکن مالیاتی شیئر نہیں دیا گیا، این ایف سی اجلاس میں وفاقی اور صوبائی نمائندوں کے سامنے یہ مدعا اٹھایا ہے جس پر ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو 8 جنوری تک اپنی سفارشات پیش کرے گی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کے پی کا انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت کا نظام تباہ ہوا لیکن صوبے کو اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا جبکہ دیگر صوبوں کو ان کا حصہ مل رہا ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے کے سوال پر انہوں نے وضاحت کی کہ این ایف سی اجلاس طویل ہونے کے باعث تاخیر ہوئی، جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 ہمارے دل میں بستے ہیں، ہم دن رات انہی کا نام لیتے ہیں اور یہ تعلق تاحیات رہے گا۔

افغان مہاجرین کی سہولت کاری کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سہولت کاری وہ کر رہے ہیں جنہوں نے غیر قانونی افغانوں کو شناختی کارڈ جاری کیے اور انہیں الیکشن لڑوا کر اسمبلیوں کا حصہ بنایا۔ وزیراعلیٰ نے امید ظاہر کی کہ بانی پی ٹی آئی سے جلد ملاقات ہوگی اور اگر آج اجازت ملی تو وہ ملاقات کریں گے۔

WhatsApp
Get Alert