دنیا بھر کی جیلوں میں 21ہزار 647 پاکستانی قید، وزیرخارجہ کا قومی اسمبلی میں انکشاف

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر کی مختلف جیلوں میں 21 ہزار 647 پاکستانی شہری قید ہیں۔ ان افراد میں سے بڑی تعداد مختلف ممالک میں زیرِ سماعت مقدمات یا سزا یافتہ قیدیوں پر مشتمل ہے۔وزیر خارجہ کے مطابق بھارت میں 738 پاکستانی شہری قید ہیں، تاہم بھارتی حکام کی جانب سے ان کی گرفتاری یا الزامات کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ سعودی عرب پاکستانی قیدیوں کی تعداد کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے، جہاں 10 ہزار 745 پاکستانی شہری مختلف جرائم میں قید ہیں۔
ان میں سے کچھ سزا یافتہ ہیں جبکہ بیشتر افراد کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔متحدہ عرب امارات کی جیلوں میں 5 ہزار 297 پاکستانی شہری موجود ہیں، تاہم ان کے خلاف جرائم کی نوعیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ چین میں 652 پاکستانی قیدی موجود ہیں جن پر زیادہ تر منشیات کی اسمگلنگ، جعلی کرنسی، فراڈ اور غیر قانونی امیگریشن جیسے الزامات عائد ہیں۔دیگر ممالک میں قید پاکستانیوں کی تعداد میں قطر599، عمان578 ملائیشیا444،اٹلی 353،بحرین میں 218، ترکیہ میں 190، امریکہ میں 141اور افغانستان میں 91پاکستانی قید ہیں وزیر خارجہ کے مطابق بیرونِ ملک قید پاکستانیوں میں سے 13 ہزار 78 افراد کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں جبکہ 8 ہزار 569 سزا یافتہ ہیں۔مزید بر آں وفاقی وزیر مواصلات نے تحریری جواب قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔
وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان نے تحریری جواب میں بتایا کہ روس نے پاکستان پوسٹ کی سروسز پر اگست 2025 میں پابندی عائد کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پابندی کی وجہ پاکستان پوسٹ کی جانب سے ساڑھے پانچ کروڑ بقایا جات کی عدم ادائیگی ہے، رقم 2021 سے ادا نہیں کی گئی۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ 12 نومبر 2021 تک پاکستان پوسٹ کے ذمہ 31 کروڑ روپے سے زائد رقم واجب الادا ہے، فنانس ڈویژن کی جانب سے فنڈز کے اجرا کے بعد روسی پوسٹ کے بقایا جات ادا کیے جائیں گے۔
علاوہ ازیں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی ملک میں ایک نئے بحران کو جنم دے گی انہوں نے کہا کہ صاحب اختیار سے گزارش ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات پر پابندی عائد نہ کی جائے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سب سے درخواست کروں گا کہ بانی پی ٹی آئی سے بہنوں کی ملاقات پر سیاست نہ کی جائے انہوں نے کہا کہ سب سے گزارش ہے کہ جذبات میں نہ آئیں پچھلے 2 سال سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر متعدد بار پابندی لگائی گئی اورکچھ لوگوں نے غیر زمہ دارانہ بیان دیے ہیں، میں ان کی مذمت کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ صاحب اختیار سے عرض کرتا ہوں کہ خان صاحب کی بہنوں کی ملاقات نہ روکی جائے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر ہیں ان سے ملاقات میں سیاسی بات ہوگی وہ ملک کا پوچھیں گے ہم ملک کا بتائیں گے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی لگانا اسلام آباد ہائیکورٹ کے آڈر کی خلاف ورزی ہے،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں ہم اپنے قانونی جدو جہد جاری رکھیں گے۔
وقفہ سوالات کے دوران پاور ڈویڑن نے تحریری جواب میں بتایا کہ ملک میں 30 ستمبر 2025 تک شمسی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 6,389 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔ اس وقت ملک بھر میں 4 لاکھ 24 ہزار 317 نیٹ میٹرنگ سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں۔پاور ڈویڑن کے مطابق متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے والے 80 نجی بجلی گھر کام کر رہے ہیں جو مجموعی طور پر 13,024 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ پن بجلی کے 5 آئی پی پیز 1,937 میگاواٹ، شمسی توانائی کے 10 آئی پی پیز 680 میگاواٹ اور ونڈ انرجی کے 36 آئی پی پیز 1,845 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں۔ اسی طرح تھر کوئلہ کے 5 آئی پی پیز سے 3,300 میگاواٹ، پھوک کے 9 آئی پی پیز سے 291 میگاواٹ اور گیس کے 15 آئی پی پیز سے 4,971 میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔
ایوان میں مسلسل “شیر شیر” کے نعرے سنائی دیتے رہے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے شدید احتجاج، ہنگامہ اور کورم پورا نہ ہونے کے نعرے لگائے گئے۔۔ تحریک انصاف کے رکن صبغت اللہ نے کورم کی نشان دہی کی جس پر چیئر نے اراکین کی گنتی کا حکم دیا۔ کورم پورا نہ نکلنے پر اجلاس پندرہ منٹ کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ دوبارہ گنتی کے باوجود بھی حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی، جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔
