مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ کر اتارنے کا افسوسناک واقعہ، بھارت میں وزیراعلیٰ نتیش کمار کی نااہلی کی تحریک چل پڑی


پٹنہ(قدرت روزنامہ)بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا نقاب زبردستی اتارنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر مسلم صارفین کے ساتھ ساتھ بھارتی عوام بھی بھڑک اٹھے اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔
کانگریس نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے نتیش کمار کی سرزنش کی اور کہا کہ بہار کے وزیر اعلیٰ کا یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ ایک خاتون ڈاکٹر اپنا اپائنٹمنٹ لیٹر لینے آئی تھیں اور اس موقع پر نتیش کمار نے ان کا حجاب اتارنے کی کوشش کی جو نہ صرف بدتمیزی بلکہ ناقابلِ معافی عمل ہے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار وزیر اعلیٰ فوری طور پر استعفیٰ دیں۔


آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے ایک بیان میں کہا کہ اگر کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ خود اس قسم کا رویہ اختیار کر سکتا ہے تو مسلم خواتین کی عزت اور تحفظ کی ضمانت کون دے گا۔


ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ بھارت کے آئین (آرٹیکل 191 (1)(ب)) کے مطابق اگر کسی شخص کو کسی مجاز عدالت نے دیوانہ قرار دیا ہو تو وہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے لیے نااہل ہے۔ بھارتی عدلیہ کو آگے آ کر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نااہل قرار دینا چاہیے۔


ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ آئینی اختیار کے تحت عزت اور جوابدہی لازمی ہے۔ احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔


اشوک سوائن لکھتے ہیں کہ مودی کے اہم اتحادی اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتار دیا۔ مودی کے بھارت میں عورت دشمنی اور اسلاموفوبیا کو سرکاری طور پر جائز قرار دیا گیا ہے۔


ایک اور بھارتی صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپائنٹمنٹ لیٹر کی تقریب کے دوران ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا حجاب زبردستی اتار دیا۔ یہ ان کی عزت، مذہبی آزادی اور جسمانی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ رویہ کسی کے لیے بھی ناقابلِ قبول ہے۔


اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے بھی اس عمل کو ان کی نیت اور ذہنی کیفیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

WhatsApp
Get Alert